امیر کی کپڑے کی دکان کبھی بازار کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ صبح دکان کھلتے ہی اندر روشنی پھیل جاتی، رنگ برنگے کپڑے قطار میں جگمگاتے اور گاہکوں کی آمد شروع ہو جاتی۔ دکان پر دو لڑکے کام کرتے تھے۔ وہ آتے ہی مسکرا کر سلام کرتے، گاہکوں کو بٹھاتے، پانی پیش کرتے، اور نرمی سے کپڑے دکھاتے۔

اکثر عورتیں دکان سے نکلتے ہوئے کہتیں:
“کپڑے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں، مگر یہاں دل لگتا ہے۔”
امیر یہ سب دیکھتا ضرور تھا، مگر دل میں ایک چبھن رہتی۔
اسے لگتا تھا کہ عزت اور تعریف ان لڑکوں کو کیوں مل رہی ہے؟
وہ خود سے کہتا:
“اصل مال تو میرا ہے، یہ لڑکے تو بس بیچ رہے ہیں۔”
ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ خود دکان پر بیٹھے گا۔
لڑکوں کو آدھا وقت کر دیا گیا، پھر آہستہ آہستہ نکال دیا گیا۔


شروع کے دنوں میں امیر بڑے جوش سے بیٹھا۔
اسے لگتا تھا اب اصل کاروبار شروع ہوگا۔
لیکن اس کے اندر کا مزاج دکان کے دروازے سے پہلے ہی داخل ہو چکا تھا۔
ایک بوڑھی عورت آئی، اس نے ایک جوڑا نکالا، ہاتھ میں لیا، خاموشی سے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی:
“بیٹا، ذرا اور دکھا دو، پسند نہیں آ رہا۔”
امیر نے کپڑا جھٹک کر رکھا:
“اگر پسند نہیں تو اور دکانیں بھی ہیں، یہاں وقت مت ضائع کرو!”

بوڑھی عورت کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
وہ کچھ کہے بغیر چلی گئی۔
کچھ دن بعد ایک نوجوان آیا۔ اس نے قیمت سن کر کہا:
“بھائی، ذرا کم کر دو، شادی کا خرچ ہے۔”
امیر کے لہجے میں زہر گھل گیا:
“شادی کرنی ہے تو پیسے پورے لے کر آؤ، بھاؤ تاؤ یہاں نہیں ہوتا!”

نوجوان نے کپڑا واپس رکھا اور دروازے سے نکلتے ہوئے کہا:
“کپڑا اچھا ہے، مگر زبان اس سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔”
امیر نے یہ جملہ سنا، مگر دل تک نہ پہنچنے دیا۔
وقت گزرتا گیا۔
دکان میں وہ رونق نہ رہی۔
جو پہلے آتے تھے، اب سامنے سے گزر کر بھی نظر نہیں ملاتے تھے۔
ایک دن بازار کے کونے میں ایک چھوٹی سی دکان کھلی۔
دکان پر ایک بزرگ بیٹھتے تھے۔
مال سادہ تھا، مگر لہجہ نرم۔
امیر نے دیکھا کہ اس چھوٹی سی دکان پر رش رہتا ہے۔
ایک دن اس نے حیرت سے پوچھ ہی لیا:
“بابا، آپ کے پاس تو خاص مال بھی نہیں، پھر لوگ اتنے کیوں آتے ہیں؟”

بزرگ مسکرائے، اور آہستہ سے بولے:
“بیٹا، لوگ کپڑا کم، سکون زیادہ خریدتے ہیں۔”
یہ بات امیر کے دل میں اٹک گئی، مگر نفس نے ماننے نہ دیا۔
کچھ عرصے بعد امیر کی دکان پر وہی لڑکا فرکان آیا، جو پہلے یہاں کام کرتا تھا۔
وہ ایک اور دکان پر ملازم تھا، مطمئن، پُرسکون۔
امیر نے پوچھا:
“کیسا چل رہا ہے؟”
فرکان نے ادب سے کہا:
“رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، بس لہجہ ہمارا ہونا چاہیے۔”
یہ جملہ امیر کے سینے میں اتر گیا۔
اسی رات امیر دکان بند کر کے اکیلا بیٹھا رہا۔
خاموش دکان، بند شو کیس، اور دیواروں سے ٹکراتی اس کی اپنی آوازیں۔
اسے وہ دن یاد آئے جب دکان ہنستی تھی، جب لوگ دعائیں دے کر جاتے تھے۔

اچانک اس کے ذہن میں اس کے والد کی بات گونجی، جو وہ اکثر کہتے تھے:
“بیٹا، رزق نرمی سے بڑھتا ہے، سختی سے نہیں۔”
اس رات امیر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ نقصان صرف پیسے کا نہیں ہوا،
دلوں کا ہوا ہے۔
اگلے دن وہ دکان کھول کر بیٹھا، مگر اس دن اس کی آواز بدلی ہوئی تھی۔
جو گاہک آیا، اسے بیٹھنے کو کہا۔
کسی نے نہ خریدا، تب بھی مسکرا کر کہا:
“کوئی بات نہیں، پھر آ جائیے گا۔”

دکان فوراً نہیں چلی،
مگر امیر کے اندر کچھ چل پڑا تھا—
اس کا ضمیر۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
دکان تو ہاتھ سے چلتی ہے،
مگر کاروبار دل سے چلتا ہے۔
اور جب دل ٹھیک ہو جائے،
تو دیر سے ہی سہی،
راستے خود بننے لگتے ہیں۔
Leave a Reply