محفوظ گھر، چونٹیوں کا بل، اور ایک خاموش سبق


ایک پرانے، خاموش اور متروک گھر کے اندر ایک ایسا کمرہ تھا جو باقی حصوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ اس کمرے کی دیواریں موٹی تھیں، چھت ٹوٹی ہوئی نہیں تھی، اور باہر کی دنیا سے اس کا رابطہ محدود تھا۔ اسی محفوظ مقام کے ایک کونے میں چونٹیوں نے اپنا بل بنایا تھا۔

یہ کوئی عام بل نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل دنیا تھی۔

وقت کے ساتھ یہ بل پھیلتا گیا، گہرا ہوتا گیا، اور مضبوط بنتا گیا۔ نسل در نسل چونٹیاں وہیں پیدا ہوئیں، وہیں پلی بڑھیں، اور وہیں ختم ہو گئیں۔ اس بستی میں ہر چونٹی کا ایک کردار تھا۔ کچھ خوراک جمع کرتی تھیں، کچھ صفائی کا خیال رکھتی تھیں، کچھ بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، اور کچھ کو محافظ کہا جاتا تھا۔

چونٹیوں کی اس بستی میں نظم تھا، خاموش محنت تھی، اور ظاہری طور پر مکمل تحفظ تھا۔ محفوظ گھر، مضبوط دیواریں، اور سالوں سے کوئی بیرونی خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے چونٹیاں خود کو مکمل طور پر مطمئن سمجھنے لگیں۔

وقت گزرتا گیا۔

اسی اطمینان کے دوران ایک چیز آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی — تیاری۔

محافظ چونٹیاں موجود تو تھیں، مگر ان کی تربیت نہ ہوتی تھی۔ وہ صرف اس لیے محافظ تھیں کیونکہ ماضی میں ان کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ مشق، نظمِ دفاع، یا خطرے کا تصور، سب چیزیں غیر ضروری سمجھ لی گئی تھیں۔

اسی دوران اس گھر میں ایک نئی مخلوق داخل ہوئی۔ وہ گھر جو چونٹیوں کو ہمیشہ محفوظ لگتا تھا، دراصل دوسروں کے لیے بھی کھلا تھا۔ ایک بھوکی چھپکلی، جو کافی عرصے سے خوراک کی تلاش میں تھی، اس خاموش گھر میں آ بسی۔

جب اس کی نظر محفوظ کمرے کے اندر موجود چونٹیوں کے بل پر پڑی، تو اس نے محسوس کیا کہ یہ خاموشی کمزوری کی علامت ہے۔

چونٹیوں نے پہلی بار خطرہ محسوس کیا۔ بل کے اندر بے چینی پھیل گئی۔ چھوٹی چونٹیاں گھبرا گئیں، خوراک ادھر ادھر ہونے لگی، اور ملکہ نے محافظوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔

مگر اب حقیقت سامنے آئی۔

محافظ اکٹھے تو ہو گئے، مگر نہ ان کے پاس حکمتِ عملی تھی، نہ نظم، نہ اتحاد۔ وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ دفاع کیسے کیا جاتا ہے۔ برسوں کے سکون نے ان سے وہ صلاحیت چھین لی تھی جو خطرے کے وقت کام آتی ہے۔

چھپکلی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی گئی۔ محفوظ کمرہ، مضبوط دیواریں، اور جمع شدہ وسائل — سب بے فائدہ ثابت ہوئے، کیونکہ اصل حفاظت دیواروں سے نہیں، ذہن اور تیاری سے ہوتی ہے۔

آخرکار وہ بستی ختم ہو گئی جو خود کو ہمیشہ محفوظ سمجھتی تھی۔


یہ کہانی کسی ایک مخلوق یا ایک جگہ تک محدود نہیں۔ یہ دراصل تاریخ کا ایک اصول ہے۔

مسلمانوں کی اجتماعی حالت بھی کچھ ایسی ہی رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب مسلم دنیا بھی ایک محفوظ مقام کی مانند تھی۔
علم، اخلاق، نظم، قیادت اور محنت — سب کچھ موجود تھا۔
دنیا کے بڑے علمی مراکز، سائنسی سوچ، اور تہذیبی رہنمائی مسلمانوں کے علاقوں سے ابھری۔

یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں نے محنت کو عبادت سمجھا،
علم کو ذمہ داری جانا،
اور تیاری کو بقا کا اصول مانا۔

مگر وقت کے ساتھ ایک سوچ نے جگہ بنا لی:
“ہم محفوظ ہیں”
“ہم کافی ہیں”
“ہمیں مزید کوشش کی ضرورت نہیں”

یہی وہ لمحہ تھا جہاں زوال نے جنم لیا۔

ویسٹ نے اس کے برعکس کیا۔
اس نے:

مسلسل محنت کی

علم کو بنیاد بنایا

ادارے مضبوط کیے

آنے والے خطرات کے لیے پہلے سے تیاری کی

مسلمانوں کے پاس وسائل تھے، مگر استعمال کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی۔
محفوظ علاقے تھے، مگر فکری تیاری ختم ہوتی گئی۔
تاریخ تھی، مگر حال کے تقاضے نظر انداز ہوتے گئے۔

دنیا کی “چھپکلی” کوئی ایک دشمن نہیں تھی،
وہ وقت، مقابلہ، علم، ٹیکنالوجی، اور بدلتا ہوا نظام تھا۔

اور جو قوم ان چیزوں کے لیے تیار نہ ہو،
وہ چاہے کتنی ہی محفوظ جگہ پر کیوں نہ ہو،
آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتی ہے۔


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *