زید ایک خاموش طبع مگر نہایت سمجھدار لڑکا تھا۔ اس کی عمر بارہ برس تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو عموماً بڑوں میں دیکھی جاتی ہے۔ وہ کم بولتا، زیادہ سوچتا، اور دوسروں کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔ اس کے والدین زیادہ تر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے تھے، اسی لیے زید کی زندگی سادہ اور تنہا سی تھی۔
لیکن یہ تنہائی ہمیشہ ایسی نہ تھی۔
ایک دن اسکول سے واپس آتے ہوئے زید نے سڑک کے کنارے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ ایک تیز رفتار گاڑی ایک کتے کو ٹکر مار کر جا چکی تھی۔ کتا سڑک کے کنارے زخمی حالت میں پڑا کراہ رہا تھا۔ اس کے پاس ایک آدمی بھی گرا ہوا تھا، جو شاید اس کا مالک تھا۔ لوگ جمع تھے، مگر کوئی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ کتے کا مالک موقع پر ہی دم توڑ چکا ہے۔

سب لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے ہٹنے لگے، مگر زید کے قدم وہیں جم گئے۔ اس نے زخمی کتے کی آنکھوں میں دیکھا—وہ آنکھیں درد، خوف اور تنہائی سے بھری ہوئی تھیں۔ زید کا دل کانپ گیا۔
بغیر کچھ سوچے، اس نے ایک رکشہ روکا، بڑی مشکل سے کتے کو اس میں ڈالا اور سیدھا جانوروں کے ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر تھوڑی بھی دیر ہو جاتی تو کتا بچ نہ پاتا۔

کئی دن تک زید روز اسکول کے بعد ہسپتال جاتا، اس کے پاس بیٹھتا، اس سے باتیں کرتا، اس کے زخموں پر ہاتھ پھیرتا۔
آہستہ آہستہ کتا صحت یاب ہو گیا۔

جب کتے کو ہسپتال سے چھٹی ملی تو زید نے اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ اس نے اس کا نام برق رکھا۔ برق شروع میں بہت خاموش اور سہما ہوا تھا، مگر زید کے نرم لہجے اور محبت نے اس کے دل سے خوف نکال دیا۔ اسی دن سے برق زید کا سایہ بن گیا۔

یہ صرف ایک کتا نہیں تھا، یہ ایک ایسا رشتہ تھا جو درد میں جڑ کر وفا میں بدل گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ زید اور برق ایک دوسرے کے بغیر ادھورے تھے۔ زید کی خاموشی کو برق سمجھتا تھا، اور برق کی آنکھوں میں زید اپنا عکس دیکھتا تھا۔
پھر وہ دن آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
زید ایک دن اسکول سے واپس نہ آیا۔ شام گہری ہو گئی، رات چھا گئی، مگر زید نہ لوٹا۔ محلے میں خوف پھیل گیا۔ پتہ چلا کہ زید کو اغواہ کر لیا گیا ہے۔ گھر میں سناٹا تھا، مگر برق بے چین ہو گیا۔ وہ بار بار زمین سونگھتا، دروازے کی طرف بھونکتا، جیسے اسے کسی راستے کا علم ہو۔

اچانک وہ ایک سمت دوڑ پڑا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے چل دیے۔ برق شہر سے باہر ایک ویران گودام کے سامنے رک گیا اور زور زور سے غرّانے لگا۔

گودام کے اندر زید رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔
اچانک ایک خوفناک آواز گونجی—
برق گودام میں کود پڑا۔
اس نے ایک اغواہ کرنے والے کی ٹانگ کو دانتوں میں جکڑ لیا، چیخ بلند ہوئی۔ دوسرے نے ڈنڈا اٹھایا تو برق نے اس کے بازو پر جھپٹ ماری۔ خون بہنے لگا۔ برق پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ جانتا تھا کہ آج پیچھے ہٹا تو زید ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔

یہ لڑائی غصے کی نہیں تھی،
یہ وفا کی تھی۔
اسی شور میں پولیس پہنچ گئی اور اغواہ کرنے والے پکڑے گئے۔ برق فوراً زید کے پاس آیا، رسی کو دانتوں سے کاٹا اور اسے آزاد کر دیا۔ زید نے برق کو گلے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

“آج تم نے میرا قرض اتار دیا، برق…”
🌟 سبق 🌟
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ وفاداری ہمیشہ لوٹ کر آتی ہے۔
زید نے ایک دن مشکل وقت میں زخمی کتے کا ساتھ دیا تھا،
آج اسی کتے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر زید کو بچایا۔
کتا فطری طور پر وفادار ہوتا ہے،
لیکن جب اسے محبت اور سہارا ملے،
تو وہ اس وفا کو کبھی نہیں بھولتا۔
جو رشتہ درد میں جڑتا ہے،
وہ مشکل میں سب سے مضبوط ثابت ہوتا ہے۔
Leave a Reply