بانس کے گھنے جنگل میں ایک پرسکون پانڈا خاندان رہتا تھا۔ امی پانڈا نرم دل تھیں، ابو پانڈا دانا اور سمجھدار تھے، اور ان کے ساتھ ان کا ننھا سا بچہ بھی تھا جو بہت چنچل اور باتونی تھا۔

اس ننھے پانڈا کی ایک بری عادت تھی—وہ بات بات پر جھوٹ بولتا تھا۔ جنگل کے سب جانور اس عادت سے واقف تھے، مگر ایک بات سب کے لیے حیران کن تھی: جب بھی وہ جھوٹ بولتا، اس کا پیٹ آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگتا، جیسے ہوا بھر رہی ہو۔ سچ بولنے پر پیٹ پھر نارمل ہو جاتا، مگر ننھا پانڈا اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا اور ہنسی میں ٹال دیتا تھا۔
ایک دن صبح کے وقت امی پانڈا نے اس سے پوچھا کہ کیا اس نے ناشتہ کر لیا ہے۔ ننھے پانڈا نے بانس کی پلیٹ کو دیکھا جس میں کھانا جوں کا توں رکھا تھا، مگر اس نے فوراً کہہ دیا کہ ہاں، سب کچھ کھا لیا ہے۔ یہ کہتے ہی اس کا پیٹ تھوڑا سا پھول گیا۔ امی نے دیکھا، مگر پیار سے خاموش رہیں۔ ننھے پانڈا نے پیٹ کو سہلایا اور ہنستا ہوا باہر کھیلنے چلا گیا، یہ سوچ کر کہ جھوٹ بولنے میں کیا ہی برائی ہے، تھوڑا سا پیٹ ہی تو بڑا ہوا ہے۔

اسی دن دوپہر کو وہ جنگل میں کھیلتے ہوئے ایک بانس کے تنے پر چڑھ گیا۔ شرارت میں اس نے زور لگایا تو بانس ٹوٹ گیا اور زور کی آواز آئی۔ ابو پانڈا فوراً وہاں پہنچے اور پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ ننھے پانڈا نے ڈر کے مارے فوراً کہا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ یہ جھوٹ پچھلے جھوٹ سے زیادہ بھاری تھا۔ اس کا پیٹ تیزی سے بڑا ہونے لگا، اتنا بڑا کہ اسے کھڑے ہونے میں مشکل ہونے لگی۔ پھر بھی وہ ضد کرتا رہا اور سچ نہ بولا۔ کچھ دیر بعد اس کا پیٹ اتنا پھول گیا کہ وہ سیدھا چل بھی نہ سکا اور لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھ گیا۔ ابو پانڈا نے اسے سنبھالا اور کہا کہ جھوٹ ہمیشہ انسان کو مشکل میں ڈال دیتا ہے، مگر ننھے پانڈا نے بات دل پر نہ لی۔

شام کو ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک گہرا سا گڑھا تھا جس کے پاس جانے سے سب منع کرتے تھے۔ ننھے پانڈا کا پیٹ ابھی بھی بڑا تھا، مگر وہ ضدی تھا۔ کھیلتے کھیلتے وہ گڑھے کے قریب جا پہنچا۔ اچانک اس کا توازن بگڑا اور وہ گڑھے میں پھنس گیا۔ پیٹ اتنا بڑا ہو چکا تھا کہ وہ نہ اوپر چڑھ سکتا تھا، نہ مڑ سکتا تھا۔ اس نے چیخ کر مدد مانگی، مگر جب امی اور ابو پہنچے اور پوچھا کہ وہ وہاں کیوں گیا تھا، تو اس نے عادت کے مطابق پھر جھوٹ بول دیا کہ وہ تو بس راستہ پوچھنے آیا تھا۔ اس آخری جھوٹ نے پیٹ کو اور زیادہ پھلا دیا، یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی گھبراہٹ محسوس کرنے لگا۔

اس لمحے ننھے پانڈا کو واقعی ڈر لگ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی جھوٹ بولنے کی عادت اسے کتنی بڑی مصیبت میں ڈال چکی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے کانپتی آواز میں سچ بول دیا کہ وہ ضد میں گڑھے کے پاس گیا تھا اور اپنی غلطی مانتا ہے۔ سچ سنتے ہی اس کا پیٹ آہستہ آہستہ چھوٹا ہونے لگا۔ ابو پانڈا نے اسے احتیاط سے باہر نکالا اور امی پانڈا نے پیار سے گلے لگا لیا۔

اس دن کے بعد ننھے پانڈا نے جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ جھوٹ وقتی طور پر بچا سکتا ہے، مگر آخرکار وہی جھوٹ سب سے بڑی مشکل بن جاتا ہے، جبکہ سچ بولنے سے دل بھی ہلکا رہتا ہے اور راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply