سبق آموز شرارتی بلی

ایک روشن صبح تھی۔ باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس ایک ننھی سی نارنجی بلی بیٹھی باہر جھانک رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں تجسس چمک رہا تھا۔ باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے، تتلیاں اڑ رہی تھیں اور ہوا میں خوشگوار سی تازگی تھی۔ بلی کے لیے یہ سب ایک دلچسپ دنیا تھی۔

اچانک اس کی نظر باغ میں لٹکے ہوئے دانوں کے تختے پر پڑی، جہاں تین موٹے تازے پرندے مزے سے دانے چگ رہے تھے۔ بلی کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا، “آج تو بڑی دعوت ملنے والی ہے!” اس نے آہستہ آہستہ جسم کو کھینچا، پنجے تیار کیے اور نظریں پرندوں پر جما دیں۔

پرندوں کو جیسے ہی خطرے کا احساس ہوا، وہ چونک گئے۔ مگر بلی نے دیر نہ کی۔ ایک ہی لمحے میں وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا گئی۔ اس کے چہرے پر جوش اور فتح کا گمان تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

بلی کا اندازہ غلط نکلا۔ وہ پرندوں تک پہنچنے سے پہلے ہی توازن کھو بیٹھی۔ تختہ ہل گیا، دانے ہر طرف بکھر گئے اور بلی سیدھی زمین پر آ گری۔ اس کے اوپر دانے برس پڑے اور وہ الٹی پڑی ہکا بکا رہ گئی۔ پرندے زور زور سے چہچہاتے ہوئے محفوظ فاصلے پر جا بیٹھے، جیسے اس کی حالت پر ہنس رہے ہوں۔

بلی کی آنکھیں گھوم رہی تھیں، سر پر کیلے کا چھلکا آ گرا تھا اور سارا جسم دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ شرمندہ بھی تھی اور پریشان بھی۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر پرندوں کی طرف، جو اب سکون سے درخت کی شاخ پر بیٹھے تھے۔

بلی نے دل ہی دل میں سوچا، “میں نے جلد بازی کی، نہ سوچا، نہ سمجھا۔” اب اس کے چہرے پر ندامت تھی، غصہ نہیں۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ ہر طاقت کا استعمال درست نہیں ہوتا اور ہر خواہش پر فوراً عمل کرنا نقصان دے سکتا ہے۔

اسی لمحے بلی نے ایک اہم سبق سیکھ لیا: نرمی بہتر ہے، اور کسی کو نقصان پہنچانے سے پہلے سوچنا ضروری ہے۔ اس دن کے بعد وہ بلی باغ میں آنے لگی، پرندوں کو دیکھتی، مسکراتی اور خاموشی سے واپس چلی جاتی۔

یوں ایک شرارتی بلی کی کہانی ایک خوبصورت سبق کے ساتھ ختم ہوئی—دانشمندی طاقت سے بڑی ہوتی ہے، اور مہربانی ہمیشہ عزت دلاتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *