Category: Urdu Stories & Bedtime Reads

  • سبق آموز شرارتی بلی

    ایک روشن صبح تھی۔ باورچی خانے کی کھڑکی کے پاس ایک ننھی سی نارنجی بلی بیٹھی باہر جھانک رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں تجسس چمک رہا تھا۔ باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے، تتلیاں اڑ رہی تھیں اور ہوا میں خوشگوار سی تازگی تھی۔ بلی کے لیے یہ سب ایک دلچسپ دنیا تھی۔

    اچانک اس کی نظر باغ میں لٹکے ہوئے دانوں کے تختے پر پڑی، جہاں تین موٹے تازے پرندے مزے سے دانے چگ رہے تھے۔ بلی کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا، “آج تو بڑی دعوت ملنے والی ہے!” اس نے آہستہ آہستہ جسم کو کھینچا، پنجے تیار کیے اور نظریں پرندوں پر جما دیں۔

    پرندوں کو جیسے ہی خطرے کا احساس ہوا، وہ چونک گئے۔ مگر بلی نے دیر نہ کی۔ ایک ہی لمحے میں وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا گئی۔ اس کے چہرے پر جوش اور فتح کا گمان تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

    بلی کا اندازہ غلط نکلا۔ وہ پرندوں تک پہنچنے سے پہلے ہی توازن کھو بیٹھی۔ تختہ ہل گیا، دانے ہر طرف بکھر گئے اور بلی سیدھی زمین پر آ گری۔ اس کے اوپر دانے برس پڑے اور وہ الٹی پڑی ہکا بکا رہ گئی۔ پرندے زور زور سے چہچہاتے ہوئے محفوظ فاصلے پر جا بیٹھے، جیسے اس کی حالت پر ہنس رہے ہوں۔

    بلی کی آنکھیں گھوم رہی تھیں، سر پر کیلے کا چھلکا آ گرا تھا اور سارا جسم دانوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ شرمندہ بھی تھی اور پریشان بھی۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر پرندوں کی طرف، جو اب سکون سے درخت کی شاخ پر بیٹھے تھے۔

    بلی نے دل ہی دل میں سوچا، “میں نے جلد بازی کی، نہ سوچا، نہ سمجھا۔” اب اس کے چہرے پر ندامت تھی، غصہ نہیں۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ ہر طاقت کا استعمال درست نہیں ہوتا اور ہر خواہش پر فوراً عمل کرنا نقصان دے سکتا ہے۔

    اسی لمحے بلی نے ایک اہم سبق سیکھ لیا: نرمی بہتر ہے، اور کسی کو نقصان پہنچانے سے پہلے سوچنا ضروری ہے۔ اس دن کے بعد وہ بلی باغ میں آنے لگی، پرندوں کو دیکھتی، مسکراتی اور خاموشی سے واپس چلی جاتی۔

    یوں ایک شرارتی بلی کی کہانی ایک خوبصورت سبق کے ساتھ ختم ہوئی—دانشمندی طاقت سے بڑی ہوتی ہے، اور مہربانی ہمیشہ عزت دلاتی ہے۔

  • کمزور چوزہ جو سب کی جان بچا گیا — عقل کی طاقت کی سبق آموز کہانی

    ایک گاؤں کے کنارے، سبز گھاس اور نرم مٹی سے گھرے ایک چھوٹے سے صحن میں ایک محبت کرنے والی مرغی رہتی تھی۔ ایک دن اس مرغی نے چند انڈے دیے۔ کچھ دنوں بعد جب انڈے ٹوٹے تو ان میں سے ننھے ننھے چوزے نکل آئے۔

    سب چوزے تندرست، پھرتیلے اور خوش مزاج تھے، مگر ان میں ایک چوزہ ایسا بھی تھا جو کمزور اور نازک سا تھا۔ اس کی صحت اچھی نہیں تھی، وہ جلد تھک جاتا اور ذرا سی آہٹ پر گھبرا جاتا۔

    مرغی ماں جہاں بھی جاتی، اس کمزور چوزے پر خاص نظر رکھتی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بچہ دوسروں کی طرح طاقتور نہیں، اس لیے وہ اسے اپنے پروں کے قریب رکھتی، اس کے لیے نرم دانہ چنتی اور اسے ہمیشہ تسلی دیتی۔ باقی چوزے دوڑتے، کودتے، اونچی جگہوں پر چڑھتے اور مختلف کام آسانی سے کر لیتے تھے۔ وہ اکثر اس کمزور چوزے کا مذاق اڑاتے کہ وہ نہ تیز دوڑ سکتا ہے اور نہ ہی بھاری کام کر سکتا ہے۔

    وقت گزرتا گیا۔ کمزور چوزہ جسمانی طور پر تو طاقتور نہ بن سکا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی۔ وہ غور سے چیزوں کو دیکھتا، سنتا اور سوچتا رہتا۔ جہاں باقی چوزے صرف کھیل کود میں لگے رہتے، وہ اردگرد کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔

    ایک دن ایسا ہوا کہ سب چوزے اپنی ماں کے ساتھ کھلے میدان میں دانہ چگ رہے تھے کہ اچانک ایک خطرہ سامنے آ گیا۔ ایک شکاری جانور ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ طاقتور چوزے گھبرا گئے، کوئی اِدھر بھاگا، کوئی اُدھر۔ ان کی طاقت اس لمحے کسی کام نہ آ سکی۔

    اسی لمحے وہ کمزور مگر حساس چوزہ آگے بڑھا۔ اس نے جلدی سے سوچا اور ایک ترکیب نکالی۔ اس نے زور زور سے آوازیں نکالیں اور باقی چوزوں کو ایک خاص سمت میں لے جانے کا اشارہ کیا، جہاں جھاڑیاں گھنی تھیں اور ایک تنگ راستہ تھا۔ اس کی سمجھداری سے سب چوزے اس راستے سے نکل گئے، اور شکاری الجھن میں پڑ کر واپس چلا گیا۔

    سب کی جان بچ گئی۔ اب وہی چوزے جو پہلے مذاق اڑاتے تھے، خاموش کھڑے تھے۔ انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ طاقت صرف جسم میں نہیں ہوتی، اصل طاقت عقل اور سمجھ میں ہوتی ہے۔ مرغی ماں نے اپنے اس حساس بچے کو محبت سے اپنے پروں میں لے لیا، اور باقی چوزوں نے پہلی بار دل سے اس کا احترام کیا۔

    اس دن کے بعد سب نے یہ سبق سیکھ لیا کہ ذہنی طاقت، جسمانی طاقت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے، اور جو کمزور نظر آتا ہے، وہ بھی وقت آنے پر سب سے مضبوط ثابت ہو سکتا ہے۔

  • چراغ، جن اور سبق آموز کہانی – غریبوں کی اصل مدد کیا ہے؟

    ایک خاموش سی دوپہر تھی۔ لاہور کی ایک پرانی گلی میں رہنے والا بارہ سالہ لڑکا علی کباڑ کے ڈھیر کے پاس کھیل رہا تھا۔ گرد آلود ٹن کے ڈبوں، ٹوٹے کھلونوں اور زنگ آلود لوہے کے درمیان اسے ایک عجیب سا پرانا چراغ ملا۔ چراغ عام چراغوں جیسا نہیں تھا؛ اس پر باریک نقش و نگار تھے، جیسے کسی نے برسوں پہلے بڑی محبت سے بنائے ہوں۔ علی نے تجسس میں آکر چراغ کو صاف کیا۔

    اچانک ہوا میں ایک لرزش سی ہوئی، دھواں اٹھا، اور اس دھوئیں میں سے ایک نورانی سی مگر رعب دار آواز ابھری۔
    “میں جن ہوں۔ صدیوں بعد کسی نے مجھے آزاد کیا ہے۔ تم تین خواہشیں مانگ سکتے ہو۔”

    علی گھبرا گیا، مگر اس کے دل میں خوف سے زیادہ رحم تھا۔ اس نے جن کی آنکھوں میں دیکھا—وہ آنکھیں طاقتور تھیں، مگر خالی نہیں۔ علی نے لمحہ بھر سوچا اور کہا:

    “میری پہلی خواہش یہ ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر جو غریب بھوکے ہیں، انہیں آج پیٹ بھر کر کھانا ملے۔”

    جن نے ہاتھ بلند کیا۔ آسمان سے خوشبو اترنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چوک، ہر فٹ پاتھ پر دیگچیاں ظاہر ہو گئیں۔ گرم گرم بریانی، رائتہ، سلاد—ایسی خوشبو کہ لوگ حیران رہ گئے۔ بچے، بوڑھے، عورتیں—سب نے سیر ہو کر کھایا۔ کئی آنکھوں میں آنسو تھے، کئی دعائیں زبان پر۔

    علی مسکرایا۔ اس کے دل کو سکون ملا۔

    اس نے دوسری خواہش کہی:
    “انہیں پیسے بھی دے دو، تاکہ وہ اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔”

    جن نے پھر ہاتھ ہلایا۔ نوٹوں کی گڈیاں نمودار ہوئیں۔ لوگ لپکے، خوشی سے چیخے، کچھ نے سجدہ کیا۔ وہ دن شہر میں تہوار کی طرح گزرا۔

    علی نے تیسری اور آخری خواہش کرتے ہوئے کہا:
    “انہیں مزید پیسے دے دو، تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں۔”

    جن خاموش رہا۔ اس نے خواہش پوری تو کر دی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی۔

    چند دن گزرے۔ علی خوشی خوشی انہی سڑکوں پر گیا، مگر جو اس نے دیکھا، اس کا دل ڈوب گیا۔ وہی چہرے، وہی ہاتھ پھیلائے ہوئے، وہی فٹ پاتھ۔ کچھ لوگ جو کل پیسے سے بھرے تھے، آج پھر خالی تھے۔ کسی نے پیسہ عیش میں اڑا دیا، کسی نے نشے میں، کسی سے چھن گیا۔ کئی تو ایسے تھے جو برسوں سے بھیک مانگنا ہی اپنا پیشہ بنا چکے تھے۔ ان کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا، کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ وہ خود کما سکیں۔

    علی نے جن کو پکارا۔
    “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے تو اتنی مدد کی!”

    جن نے آہ بھری اور کہا:
    “بیٹے، تمہارا دل بہت نیک ہے، مگر صرف پیسہ مسئلے کا حل نہیں۔ جب انسان کے پاس ہنر، تعلیم اور کام کا راستہ نہ ہو، تو دولت بھی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔ کچھ لوگ مجبوری سے مانگتے ہیں، اور کچھ عادت سے۔ تم نے پیٹ بھرا، تم نے پیسہ دیا، مگر تم نے راستہ نہیں دیا۔”

    علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
    “تو پھر اصل مدد کیا ہے؟”

    جن نے نرمی سے کہا:
    “اصل مدد یہ ہے کہ انسان کو وہ ذریعہ دیا جائے جس سے وہ خود کما سکے۔ ہنر سکھاؤ، روزگار دو، تعلیم کا دروازہ کھولو۔ مچھلی دینے سے بہتر ہے مچھلی پکڑنا سکھانا۔”

    چراغ مدھم پڑ گیا۔ جن رخصت ہو گیا، مگر اس کی بات علی کے دل میں نقش ہو گئی۔

    وقت گزرا۔ علی بڑا ہوا۔ اس نے اسکول کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہنر سیکھے، پھر ایک ایسا مرکز قائم کیا جہاں سڑکوں پر رہنے والوں کو کام سکھایا جاتا—کسی کو دستکاری، کسی کو رکشہ چلانا، کسی کو سلائی، کسی کو چھوٹی دکان چلانا۔ آہستہ آہستہ وہی ہاتھ جو بھیک مانگتے تھے، کام کرنے لگے۔

    علی اکثر سوچتا:
    “مدد وہ نہیں جو لمحاتی خوشی دے، مدد وہ ہے جو زندگی بدل دے۔ اگر تم واقعی کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اسے پیسہ نہیں، راستہ دو۔”

    اور یہی سبق اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن گیا۔

  • چڑیا گھر کے جانوروں کا فرار – بچوں کے لیے ایک مزاحیہ کارٹون کہانی

    🐘🦁🐒 چڑیا گھر کی عظیم فرار مہم 😂

    شہر کے مشہور چڑیا گھر میں ایک رات کچھ غیر معمولی ہونے والا تھا۔
    چاند پورا نکلا ہوا تھا، گارڈ کرسی پر بیٹھا اونگھ رہا تھا، اور جانور…
    جانور میٹنگ کر رہے تھے!

    🦁 شیر سلطان کی تقریر

    شیر سلطان اپنے پنجرے میں چکر لگاتے ہوئے بولا:
    “دوستو! میں جنگل کا بادشاہ ہوں، اور یہاں مجھے روز مرغی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ملتے ہیں۔
    یہ قید ہے! یہ ناانصافی ہے! میں آزادی چاہتا ہوں!”

    سب جانوروں نے زور زور سے سر ہلایا۔

    🐘 ہاتھی موٹو کی شکایت

    ہاتھی موٹو نے سونڈ ہلاتے ہوئے کہا:
    “اور مجھے دیکھو! اتنا بڑا جسم، مگر نہانے کے لیے ایک چھوٹا سا ٹب۔
    میں نے تو کبھی مڈ باتھ بھی نہیں لیا!”

    🦒 زرافہ چِکو کا دکھ

    زرافہ چِکو آہ بھرتے ہوئے بولا:
    “میرے سامنے درخت ہوتے ہیں، مگر پتے ہمیشہ ختم!
    اتنی لمبی گردن کا کیا فائدہ؟”

    🐒 بندر بابو کا پلان

    تبھی بندر بابو ایک درخت سے چھلانگ لگا کر آیا اور بولا:
    “خاموش! میں نے زبردست پلان بنایا ہے۔
    آج رات… ہم سب چڑیا گھر سے بھاگ جائیں گے!

    سب جانور خوشی سے اچھل پڑے۔
    شیر سلطان نے اعلان کیا:
    “آج رات… آزادی کی رات ہے!”


    🌙 فرار کی رات

    رات کے ٹھیک بارہ بجے، گارڈ کے خراٹوں نے موسیقی کا کام دیا۔

    بندر بابو نہ جانے کہاں سے چابی لے آیا (یہ راز آج تک راز ہی ہے 😆)۔

    • ہاتھی موٹو نے دروازہ زور سے دھکیلا
    • زرافہ چِکو نے اوپر لگی تاروں پر نظر رکھی
    • شیر سلطان نے لیڈرشپ سنبھالی
    • اور بندر بابو… سیلفیاں لیتا رہا 📸

    آخرکار سب جانور چڑیا گھر سے باہر نکل آئے۔


    😂 مگر مسئلہ یہ تھا…

    باہر آتے ہی سب رک گئے۔

    ہاتھی موٹو نے حیران ہو کر کہا:
    “یہ جنگل اتنا سیدھا کیوں ہے؟ اور زمین پر سفید لکیریں کیوں بنی ہیں؟”

    زرافہ چِکو نے بلبوں کو دیکھ کر پوچھا:
    “درختوں پر یہ چمکتے پھل کیسے اگ گئے؟”

    اچانک ایک گاڑی زور سے گزری—
    وووووش!

    شیر سلطان ڈر کے مارے ہاتھی کے پیچھے چھپ گیا:
    “یہ کس قسم کا جانور تھا جو چیختا ہوا بھاگ گیا؟!”

    بندر بابو ہنسا:
    “حضور! یہ شہر ہے، یہاں گاڑیاں دوڑتی ہیں!”


    🚦 ٹریفک سگنل کا خوف

    سگنل لال ہوا تو سب رک گئے، سبز ہوا تو سب بھاگنے لگے۔

    زرافہ بولا:
    “یہ درخت رنگ کیوں بدل رہا ہے؟”

    ہاتھی نے سنجیدگی سے کہا:
    “یہ انسانوں کا سردار لگتا ہے!”

    شیر سلطان نے سر ہلا کر کہا:
    “خاموش رہو، کہیں ہمیں حکم نہ دے دے!”


    🍔 فاسٹ فوڈ کا صدمہ

    ایک برگر شاپ سے خوشبو آئی۔

    شیر اندر گیا، مینو دیکھا اور غصے سے بولا:
    “یہ کیا؟ سبزیوں کا برگر؟
    یہ شکار نہیں… دھوکہ ہے!”

    ہاتھی نے کولڈ ڈرنک پی اور چیخا:
    “یہ پانی کیوں کاٹ رہا ہے؟!”


    🐕 چھوٹا کتا، بڑا رعب

    اچانک ایک چھوٹا سا کتا زور زور سے بھونکنے لگا۔

    شیر سلطان اکڑا:
    “میں جنگل کا بادشاہ ہوں!”

    کتا اور زور سے بھونکا۔

    شیر فوراً بولا:
    “موٹو… ذرا آگے آ جانا…”

    بندر بابو قہقہہ لگا کر بولا:
    “بادشاہت صرف جنگل میں چلتی ہے!”


    😵 حقیقت کا احساس

    تھوڑی دیر بعد سب تھک گئے۔

    ہاتھی ہانپ رہا تھا
    زرافہ کی گردن درد کر رہی تھی
    شیر کی شان ختم ہو چکی تھی
    اور بندر بابو بھی چپ ہو گیا تھا (یہ سب سے خطرناک بات تھی!)

    ہاتھی نے کہا:
    “چڑیا گھر میں کھانا ٹائم پر ملتا تھا…”

    زرافہ بولا:
    “اور درخت اصلی تھے…”

    شیر سلطان نے آہ بھری:
    “اور کوئی گاڑی مجھے ڈرانے نہیں آتی تھی…”

    بندر بابو مسکرا کر بولا:
    “دوستو… واپس چلیں۔”


    🏃‍♂️ خاموش واپسی

    سب جانور دبے پاؤں واپس چڑیا گھر آئے،
    اپنے اپنے پنجروں میں لیٹے اور گہری نیند سو گئے۔

    صبح گارڈ آیا، سر کھجا کر بولا:
    “عجیب بات ہے… آج سب جانور ایسے لگ رہے ہیں جیسے پوری رات باہر گھومے ہوں!”

    بندر بابو نے آنکھ بند رکھتے ہوئے کہا:
    “اگلی بار… پلان بہتر ہوگا…” 😜


    🌟 سبق :

    ہر آزادی مزے کی نہیں ہوتی،
    اور کبھی کبھی محفوظ پنجرہ بھی خطرناک شہر سے بہتر ہوتا ہے 😄🐾

  • جھوٹ بولنے والا ننھا پانڈا | بچوں کے لیے سبق آموز مزاحیہ کہانی

    بانس کے گھنے جنگل میں ایک پرسکون پانڈا خاندان رہتا تھا۔ امی پانڈا نرم دل تھیں، ابو پانڈا دانا اور سمجھدار تھے، اور ان کے ساتھ ان کا ننھا سا بچہ بھی تھا جو بہت چنچل اور باتونی تھا۔

    اس ننھے پانڈا کی ایک بری عادت تھی—وہ بات بات پر جھوٹ بولتا تھا۔ جنگل کے سب جانور اس عادت سے واقف تھے، مگر ایک بات سب کے لیے حیران کن تھی: جب بھی وہ جھوٹ بولتا، اس کا پیٹ آہستہ آہستہ بڑا ہونے لگتا، جیسے ہوا بھر رہی ہو۔ سچ بولنے پر پیٹ پھر نارمل ہو جاتا، مگر ننھا پانڈا اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا اور ہنسی میں ٹال دیتا تھا۔

    ایک دن صبح کے وقت امی پانڈا نے اس سے پوچھا کہ کیا اس نے ناشتہ کر لیا ہے۔ ننھے پانڈا نے بانس کی پلیٹ کو دیکھا جس میں کھانا جوں کا توں رکھا تھا، مگر اس نے فوراً کہہ دیا کہ ہاں، سب کچھ کھا لیا ہے۔ یہ کہتے ہی اس کا پیٹ تھوڑا سا پھول گیا۔ امی نے دیکھا، مگر پیار سے خاموش رہیں۔ ننھے پانڈا نے پیٹ کو سہلایا اور ہنستا ہوا باہر کھیلنے چلا گیا، یہ سوچ کر کہ جھوٹ بولنے میں کیا ہی برائی ہے، تھوڑا سا پیٹ ہی تو بڑا ہوا ہے۔

    اسی دن دوپہر کو وہ جنگل میں کھیلتے ہوئے ایک بانس کے تنے پر چڑھ گیا۔ شرارت میں اس نے زور لگایا تو بانس ٹوٹ گیا اور زور کی آواز آئی۔ ابو پانڈا فوراً وہاں پہنچے اور پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ ننھے پانڈا نے ڈر کے مارے فوراً کہا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ یہ جھوٹ پچھلے جھوٹ سے زیادہ بھاری تھا۔ اس کا پیٹ تیزی سے بڑا ہونے لگا، اتنا بڑا کہ اسے کھڑے ہونے میں مشکل ہونے لگی۔ پھر بھی وہ ضد کرتا رہا اور سچ نہ بولا۔ کچھ دیر بعد اس کا پیٹ اتنا پھول گیا کہ وہ سیدھا چل بھی نہ سکا اور لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھ گیا۔ ابو پانڈا نے اسے سنبھالا اور کہا کہ جھوٹ ہمیشہ انسان کو مشکل میں ڈال دیتا ہے، مگر ننھے پانڈا نے بات دل پر نہ لی۔

    شام کو ایک اور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک گہرا سا گڑھا تھا جس کے پاس جانے سے سب منع کرتے تھے۔ ننھے پانڈا کا پیٹ ابھی بھی بڑا تھا، مگر وہ ضدی تھا۔ کھیلتے کھیلتے وہ گڑھے کے قریب جا پہنچا۔ اچانک اس کا توازن بگڑا اور وہ گڑھے میں پھنس گیا۔ پیٹ اتنا بڑا ہو چکا تھا کہ وہ نہ اوپر چڑھ سکتا تھا، نہ مڑ سکتا تھا۔ اس نے چیخ کر مدد مانگی، مگر جب امی اور ابو پہنچے اور پوچھا کہ وہ وہاں کیوں گیا تھا، تو اس نے عادت کے مطابق پھر جھوٹ بول دیا کہ وہ تو بس راستہ پوچھنے آیا تھا۔ اس آخری جھوٹ نے پیٹ کو اور زیادہ پھلا دیا، یہاں تک کہ وہ سانس لینے میں بھی گھبراہٹ محسوس کرنے لگا۔

    اس لمحے ننھے پانڈا کو واقعی ڈر لگ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی جھوٹ بولنے کی عادت اسے کتنی بڑی مصیبت میں ڈال چکی ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور اس نے کانپتی آواز میں سچ بول دیا کہ وہ ضد میں گڑھے کے پاس گیا تھا اور اپنی غلطی مانتا ہے۔ سچ سنتے ہی اس کا پیٹ آہستہ آہستہ چھوٹا ہونے لگا۔ ابو پانڈا نے اسے احتیاط سے باہر نکالا اور امی پانڈا نے پیار سے گلے لگا لیا۔

    اس دن کے بعد ننھے پانڈا نے جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ جھوٹ وقتی طور پر بچا سکتا ہے، مگر آخرکار وہی جھوٹ سب سے بڑی مشکل بن جاتا ہے، جبکہ سچ بولنے سے دل بھی ہلکا رہتا ہے اور راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔

  • زیداور وفادار ہسکی — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی دوستی، قربانی اور وفاکی


    زید ایک خاموش طبع مگر نہایت سمجھدار لڑکا تھا۔ اس کی عمر بارہ برس تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو عموماً بڑوں میں دیکھی جاتی ہے۔ وہ کم بولتا، زیادہ سوچتا، اور دوسروں کے دکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔ اس کے والدین زیادہ تر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے تھے، اسی لیے زید کی زندگی سادہ اور تنہا سی تھی۔

    لیکن یہ تنہائی ہمیشہ ایسی نہ تھی۔

    ایک دن اسکول سے واپس آتے ہوئے زید نے سڑک کے کنارے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ ایک تیز رفتار گاڑی ایک کتے کو ٹکر مار کر جا چکی تھی۔ کتا سڑک کے کنارے زخمی حالت میں پڑا کراہ رہا تھا۔ اس کے پاس ایک آدمی بھی گرا ہوا تھا، جو شاید اس کا مالک تھا۔ لوگ جمع تھے، مگر کوئی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں معلوم ہوا کہ کتے کا مالک موقع پر ہی دم توڑ چکا ہے۔

    سب لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے ہٹنے لگے، مگر زید کے قدم وہیں جم گئے۔ اس نے زخمی کتے کی آنکھوں میں دیکھا—وہ آنکھیں درد، خوف اور تنہائی سے بھری ہوئی تھیں۔ زید کا دل کانپ گیا۔

    بغیر کچھ سوچے، اس نے ایک رکشہ روکا، بڑی مشکل سے کتے کو اس میں ڈالا اور سیدھا جانوروں کے ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر تھوڑی بھی دیر ہو جاتی تو کتا بچ نہ پاتا۔

    کئی دن تک زید روز اسکول کے بعد ہسپتال جاتا، اس کے پاس بیٹھتا، اس سے باتیں کرتا، اس کے زخموں پر ہاتھ پھیرتا۔

    آہستہ آہستہ کتا صحت یاب ہو گیا۔

    جب کتے کو ہسپتال سے چھٹی ملی تو زید نے اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ اس نے اس کا نام برق رکھا۔ برق شروع میں بہت خاموش اور سہما ہوا تھا، مگر زید کے نرم لہجے اور محبت نے اس کے دل سے خوف نکال دیا۔ اسی دن سے برق زید کا سایہ بن گیا۔

    یہ صرف ایک کتا نہیں تھا، یہ ایک ایسا رشتہ تھا جو درد میں جڑ کر وفا میں بدل گیا تھا۔

    وقت گزرتا گیا۔ زید اور برق ایک دوسرے کے بغیر ادھورے تھے۔ زید کی خاموشی کو برق سمجھتا تھا، اور برق کی آنکھوں میں زید اپنا عکس دیکھتا تھا۔

    پھر وہ دن آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔

    زید ایک دن اسکول سے واپس نہ آیا۔ شام گہری ہو گئی، رات چھا گئی، مگر زید نہ لوٹا۔ محلے میں خوف پھیل گیا۔ پتہ چلا کہ زید کو اغواہ کر لیا گیا ہے۔ گھر میں سناٹا تھا، مگر برق بے چین ہو گیا۔ وہ بار بار زمین سونگھتا، دروازے کی طرف بھونکتا، جیسے اسے کسی راستے کا علم ہو۔

    اچانک وہ ایک سمت دوڑ پڑا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے چل دیے۔ برق شہر سے باہر ایک ویران گودام کے سامنے رک گیا اور زور زور سے غرّانے لگا۔

    گودام کے اندر زید رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔

    اچانک ایک خوفناک آواز گونجی—
    برق گودام میں کود پڑا۔

    اس نے ایک اغواہ کرنے والے کی ٹانگ کو دانتوں میں جکڑ لیا، چیخ بلند ہوئی۔ دوسرے نے ڈنڈا اٹھایا تو برق نے اس کے بازو پر جھپٹ ماری۔ خون بہنے لگا۔ برق پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ جانتا تھا کہ آج پیچھے ہٹا تو زید ہمیشہ کے لیے کھو جائے گا۔

    یہ لڑائی غصے کی نہیں تھی،
    یہ وفا کی تھی۔

    اسی شور میں پولیس پہنچ گئی اور اغواہ کرنے والے پکڑے گئے۔ برق فوراً زید کے پاس آیا، رسی کو دانتوں سے کاٹا اور اسے آزاد کر دیا۔ زید نے برق کو گلے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

    “آج تم نے میرا قرض اتار دیا، برق…”


    🌟 سبق 🌟

    یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ وفاداری ہمیشہ لوٹ کر آتی ہے۔
    زید نے ایک دن مشکل وقت میں زخمی کتے کا ساتھ دیا تھا،
    آج اسی کتے نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر زید کو بچایا۔

    کتا فطری طور پر وفادار ہوتا ہے،
    لیکن جب اسے محبت اور سہارا ملے،
    تو وہ اس وفا کو کبھی نہیں بھولتا۔

    جو رشتہ درد میں جڑتا ہے،
    وہ مشکل میں سب سے مضبوط ثابت ہوتا ہے۔


  • ٹائم ٹریول مشین اور ڈائنوسار کی دنیا: تین دوستوں کی حیرت انگیز مہم

    یہ کہانی اُس زمانے کی ہے جب زمین پر انسان نہیں بلکہ ڈائنو سورس کا راج تھا۔ چاروں طرف گھنا جنگل تھا، اونچے اونچے درخت، گہری جھاڑیاں، اور ہر طرف عجیب و غریب آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔ اس جنگل میں ہر طرح کے ڈائنو سورس رہتے تھے۔

    کہیں طاقتور ٹائرینوسورس ریکس (Tyrannosaurus Rex) تھا، کہیں پُرامن ٹرائی سیراٹاپس (Triceratops) چر رہا تھا، درختوں کی چوٹیوں سے پتے توڑتا ہوا براکیوسورس (Brachiosaurus) دکھائی دیتا تھا، اور جھاڑیوں میں تیزی سے حرکت کرتا ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) سب سے زیادہ چوکنا رہتا تھا۔

    ایک دن اچانک جنگل کے بیچ ایک زوردار روشنی چمکی، جیسے آسمان زمین پر اُتر آیا ہو۔ چند لمحوں بعد وہاں ایک عجیب سی مشین کھڑی تھی۔ وہ ایک ٹائم ٹریول مشین تھی۔

    اس کے اندر چار لوگ موجود تھے: علی، حمزہ، عبداللہ اور ان کا ایک دوست جو تھا ربوٹ مگر ظاہری طور پر انسانی شکل رکھتاتھا-جو اس مشین کو چلا رہا تھا۔ ابھی وہ سب یہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ مشین رک کیوں گئی ہے کہ باہر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔

    جب انہوں نے مشین کے شیشے سے باہر جھانک کر دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔ چاروں طرف دیو ہیکل ڈائنو سورس گھوم رہے تھے۔ حمزہ نے گھبرا کر کہا، “یہ تو ڈائنو سورس کی دنیا لگتی ہے!” عبداللہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، اور علی خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

    اچانک جھاڑیوں میں ہلچل ہوئی اور ایک ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) نمودار ہوا۔ وہ مشین کے قریب آیا، اسے سونگھنے لگا، جیسے یہ جانچ رہا ہو کہ یہ کیا چیز ہے۔ سب سانس روکے بیٹھے تھے۔ اسی گھبراہٹ میں وہ سب جلدی میں مشین سے باہر نکل آئے تاکہ کسی طرح خود کو بچا سکیں۔

    جیسے ہی وہ باہر آئے، ویلو سی ریپٹر ایک دم پیچھے ہٹ گیا، اور اسی لمحے دور سے ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ یہ ٹائرینوسورس ریکس (Tyrannosaurus Rex) کی آواز تھی۔

    ڈر کے مارے وہ سب اِدھر اُدھر بھاگے۔ علی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی، حمزہ نے پتھر، اور عبداللہ نے درخت کے پیچھے پناہ لی۔ وہ صرف اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے، کسی کو نقصان پہنچانا نہیں۔ کچھ دیر بعد جب آوازیں دور ہو گئیں تو انہوں نے واپس جا کر ٹائم مشین کو چلانے کی کوشش کی، مگر وہ خراب ہو چکی تھی۔ اب واپسی ممکن نہیں تھی۔

    پہلی رات ان کے لیے بہت مشکل تھی۔ جنگل کی آوازیں، زمین کی ہلکی لرزش، اور ڈائنو سورس کی گونجتی چیخیں انہیں سونے نہیں دے رہی تھیں۔ صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ٹرائی سیراٹاپس (Triceratops) قریب ہی گھاس کھا رہا ہے۔ وہ بالکل پُرسکون تھا۔ اس نے نہ ان کی طرف دیکھا، نہ کوئی حملہ کیا۔ اسی لمحے انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ شاید ہر ڈائنو سورس دشمن نہیں۔

    چند دن بعد ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک چھوٹا ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) ایک کیچڑ والے گڑھے میں پھنس گیا۔ وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ناکام تھا۔ عبداللہ نے ہمت کر کے ایک لمبی شاخ آگے بڑھائی۔ سب کو لگا وہ ڈائنو سورس حملہ کر دے گا، مگر وہ شاخ پکڑ کر باہر آ گیا اور عجیب سی خوشی کی آواز نکال کر چلا گیا۔

    اس کے بعد وہ تینوں آہستہ آہستہ ڈائنو سورس کو سمجھنے لگے۔ انہوں نے چیزیں پھینکنا چھوڑ دیں، چیخنا چلانا بند کر دیا، اور سکون سے رہنا سیکھ لیا۔ جب علی نے ایک براکیوسورس (Brachiosaurus) کے پاؤں کو آہستہ سے چھوا تو وہ بالکل نہیں گھبرایا، بلکہ آرام سے پتے کھاتا رہا۔

    وقت گزرتا گیا۔ علی، حمزہ اور عبداللہ اب اس جنگل کا حصہ بن چکے تھے۔ ڈائنو سورس انہیں پہچاننے لگے تھے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ انسان ان کی خوراک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا دشمن۔ اب وہ تینوں ڈائنو سورس سے ڈرتے نہیں تھے بلکہ ان کے دوست بن چکے تھے۔

    اکثر شام کے وقت وہ بیٹھ کر سوچتے کہ ٹائم ٹریول انہیں یہاں کیوں لے آیا۔ پھر انہیں لگتا کہ شاید یہ سفر انہیں یہ سکھانے کے لیے تھا کہ ہر طاقتور چیز خطرناک نہیں ہوتی، اور محبت، صبر اور سمجھ سے ناممکن حالات میں بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس جنگل میں، جہاں کبھی صرف خوف تھا، اب سکون اور دوستی نے جگہ بنا لی تھی۔ 🦖🌿

    کچھ ہی دن بعد ان کی ٹرائیم ٹریول مشین خود بخود صحیح ہو جاتی ہے اور یہ ڈائنیسورز کو خدا حافظ کہہ کر خوشی خوشی واپس چلے جاتے ہیں-

  • محفوظ گھر، چونٹیوں کا بل، اور ایک خاموش سبق


    ایک پرانے، خاموش اور متروک گھر کے اندر ایک ایسا کمرہ تھا جو باقی حصوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ اس کمرے کی دیواریں موٹی تھیں، چھت ٹوٹی ہوئی نہیں تھی، اور باہر کی دنیا سے اس کا رابطہ محدود تھا۔ اسی محفوظ مقام کے ایک کونے میں چونٹیوں نے اپنا بل بنایا تھا۔

    یہ کوئی عام بل نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل دنیا تھی۔

    وقت کے ساتھ یہ بل پھیلتا گیا، گہرا ہوتا گیا، اور مضبوط بنتا گیا۔ نسل در نسل چونٹیاں وہیں پیدا ہوئیں، وہیں پلی بڑھیں، اور وہیں ختم ہو گئیں۔ اس بستی میں ہر چونٹی کا ایک کردار تھا۔ کچھ خوراک جمع کرتی تھیں، کچھ صفائی کا خیال رکھتی تھیں، کچھ بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، اور کچھ کو محافظ کہا جاتا تھا۔

    چونٹیوں کی اس بستی میں نظم تھا، خاموش محنت تھی، اور ظاہری طور پر مکمل تحفظ تھا۔ محفوظ گھر، مضبوط دیواریں، اور سالوں سے کوئی بیرونی خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے چونٹیاں خود کو مکمل طور پر مطمئن سمجھنے لگیں۔

    وقت گزرتا گیا۔

    اسی اطمینان کے دوران ایک چیز آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی — تیاری۔

    محافظ چونٹیاں موجود تو تھیں، مگر ان کی تربیت نہ ہوتی تھی۔ وہ صرف اس لیے محافظ تھیں کیونکہ ماضی میں ان کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ مشق، نظمِ دفاع، یا خطرے کا تصور، سب چیزیں غیر ضروری سمجھ لی گئی تھیں۔

    اسی دوران اس گھر میں ایک نئی مخلوق داخل ہوئی۔ وہ گھر جو چونٹیوں کو ہمیشہ محفوظ لگتا تھا، دراصل دوسروں کے لیے بھی کھلا تھا۔ ایک بھوکی چھپکلی، جو کافی عرصے سے خوراک کی تلاش میں تھی، اس خاموش گھر میں آ بسی۔

    جب اس کی نظر محفوظ کمرے کے اندر موجود چونٹیوں کے بل پر پڑی، تو اس نے محسوس کیا کہ یہ خاموشی کمزوری کی علامت ہے۔

    چونٹیوں نے پہلی بار خطرہ محسوس کیا۔ بل کے اندر بے چینی پھیل گئی۔ چھوٹی چونٹیاں گھبرا گئیں، خوراک ادھر ادھر ہونے لگی، اور ملکہ نے محافظوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔

    مگر اب حقیقت سامنے آئی۔

    محافظ اکٹھے تو ہو گئے، مگر نہ ان کے پاس حکمتِ عملی تھی، نہ نظم، نہ اتحاد۔ وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ دفاع کیسے کیا جاتا ہے۔ برسوں کے سکون نے ان سے وہ صلاحیت چھین لی تھی جو خطرے کے وقت کام آتی ہے۔

    چھپکلی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی گئی۔ محفوظ کمرہ، مضبوط دیواریں، اور جمع شدہ وسائل — سب بے فائدہ ثابت ہوئے، کیونکہ اصل حفاظت دیواروں سے نہیں، ذہن اور تیاری سے ہوتی ہے۔

    آخرکار وہ بستی ختم ہو گئی جو خود کو ہمیشہ محفوظ سمجھتی تھی۔


    یہ کہانی کسی ایک مخلوق یا ایک جگہ تک محدود نہیں۔ یہ دراصل تاریخ کا ایک اصول ہے۔

    مسلمانوں کی اجتماعی حالت بھی کچھ ایسی ہی رہی ہے۔

    ایک وقت تھا جب مسلم دنیا بھی ایک محفوظ مقام کی مانند تھی۔
    علم، اخلاق، نظم، قیادت اور محنت — سب کچھ موجود تھا۔
    دنیا کے بڑے علمی مراکز، سائنسی سوچ، اور تہذیبی رہنمائی مسلمانوں کے علاقوں سے ابھری۔

    یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں نے محنت کو عبادت سمجھا،
    علم کو ذمہ داری جانا،
    اور تیاری کو بقا کا اصول مانا۔

    مگر وقت کے ساتھ ایک سوچ نے جگہ بنا لی:
    “ہم محفوظ ہیں”
    “ہم کافی ہیں”
    “ہمیں مزید کوشش کی ضرورت نہیں”

    یہی وہ لمحہ تھا جہاں زوال نے جنم لیا۔

    ویسٹ نے اس کے برعکس کیا۔
    اس نے:

    مسلسل محنت کی

    علم کو بنیاد بنایا

    ادارے مضبوط کیے

    آنے والے خطرات کے لیے پہلے سے تیاری کی

    مسلمانوں کے پاس وسائل تھے، مگر استعمال کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی۔
    محفوظ علاقے تھے، مگر فکری تیاری ختم ہوتی گئی۔
    تاریخ تھی، مگر حال کے تقاضے نظر انداز ہوتے گئے۔

    دنیا کی “چھپکلی” کوئی ایک دشمن نہیں تھی،
    وہ وقت، مقابلہ، علم، ٹیکنالوجی، اور بدلتا ہوا نظام تھا۔

    اور جو قوم ان چیزوں کے لیے تیار نہ ہو،
    وہ چاہے کتنی ہی محفوظ جگہ پر کیوں نہ ہو،
    آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتی ہے۔


  • جنگل کا پانڈا | لالچ، آزادی اور گھر کی قدر پر سبق آموز کہانی


    ایک گھنا اور سرسبز جنگل تھا، جہاں ایک ننھا سا پانڈا رہتا تھا۔ وہ اپنی سادہ سی زندگی میں بے حد خوش تھا۔

    دن کا زیادہ تر وقت وہ درختوں کے سائے میں آرام کرتے، کبھی شاخوں سے لٹکتا، کبھی دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور جب بھوک لگتی تو جنگل میں موجود وافر خوراک سے اپنا پیٹ بھر لیتا۔ اسے کسی چیز کی کمی نہ تھی، نہ فکر، نہ غم۔

    ایک دن کھیلتے کھیلتے وہ جنگل سے بہت آگے نکل گیا اور اچانک ایک سڑک پر جا پہنچا۔ وہاں اس نے عجیب و غریب چیزیں دیکھیں جو بہت تیزی سے آگے پیچھے جا رہی تھیں۔

    وہ گھبرا گیا اور سوچنے لگا کہ یہ کیا مخلوق ہے؟ دراصل وہ گاڑیاں تھیں جو سڑک پر دوڑ رہی تھیں۔ پانڈا خوف اور حیرت کے عالم میں سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔

    کچھ ہی دیر میں وہاں لوگ جمع ہونے لگے۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کوئی موبائل سے تصویریں بنا رہا تھا، کوئی خوشی سے مسکرا رہا تھا۔ پانڈا چونکہ بہت پیارا اور کیوٹ تھا، اس لیے سب اس کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی آئے جن کے دل میں جانوروں کے لیےبہت زیادہ محبت تھی۔ وہ پانڈا کے لیے کھانا لے کر آئے۔

    پانڈا نے جیسے ہی کھانا دیکھا، اس کے قدم رک گئے۔ وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں بیٹھا رہا  اور کھانا کھانے لگا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وقتی لالچ اس کی زندگی کو کس موڑ پر لے جا رہا ہے۔

    کچھ دیر بعد لوگوں نے اسے ایک بڑے پنجرے میں ڈال دیا اور ایک گاڑی میں بٹھا کر کہیں لے جانے لگے۔ پانڈا بہت ڈر گیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ وہ گاڑی دراصل چڑیا گھر کے لوگوں کی تھی، جو پانڈا کو وہاں لے جا رہے تھے کیونکہ چڑیا گھر کو ایک پانڈا کی ضرورت تھی۔

    چڑیا گھر پہنچ کر پانڈا کی زندگی بدل گئی۔ وہاں نہ وہ آزاد جنگل تھا، نہ اس کے دوست، نہ وہ درخت جن پر وہ جھولا کرتا تھا۔ کھانا تو ملتا تھا، مگر اس میں وہ مزہ اور آزادی نہ تھی۔ رفتہ رفتہ اسے اپنے جنگل کی یاد ستانے لگی۔

    مہینے گزرتے گئے اور پانڈا کی صحت خراب ہونے لگی۔ لوگ روز آتے، اسے کھانا دیتے، تصویریں بناتے، مگر پانڈا اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے رہے، مگر فائدہ نہ ہوا۔ آخرکار ماہر ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ پانڈا یہاں خوش نہیں رہ سکتا، کیونکہ اسے اپنے گھر کی شدید یاد آتی ہے۔

    چنانچہ یہ طے پایا کہ اسے واپس اسی جنگل میں چھوڑ دیا جائے جہاں سے اسے لایا گیا تھا۔

    جب پانڈا کو دوبارہ اس کے جنگل میں چھوڑا گیا اور اس نے وہی درخت، وہی راستے اور وہی خوشبو دیکھی تو وہ خوشی سے دوڑ پڑا۔ وہ سیدھا جنگل کے اندر چلا گیا۔ اس کی آنکھوں میں جیسے سکون اتر آیا ہو۔

    وہ دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگا اور سوچنے لگا:
    “کاش اُس دن میں کھانے کے لالچ میں نہ آتا اور فوراً جنگل واپس لوٹ جاتا، تو مجھے یہ سب مشکل دن نہ دیکھنے پڑتے۔”

    یوں پانڈا نے اپنی آزادی اور اصل گھر کی قدر کو پہچان لیا۔


      سبق

    آزادی اللہ کی بڑی نعمت ہے
    جو شخص اس نعمت کی قدر نہیں کرتا، وہ اس کی محرومی کا دکھ ضرور محسوس کرتا ہے۔


      لالچ میں آ کر غلط فیصلے نہیں کرنے چاہئیں
      ایک لمحے کا فیصلہ زندگی بھر کی پریشانی بن سکتا ہے۔


      1. بدتمیزی نے کیسے ایک کامیاب کاروبار کو تباہ کر دیا؟ ایک سبق آموز کہانی


        امیر کی کپڑے کی دکان کبھی بازار کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ صبح دکان کھلتے ہی اندر روشنی پھیل جاتی، رنگ برنگے کپڑے قطار میں جگمگاتے اور گاہکوں کی آمد شروع ہو جاتی۔ دکان پر دو لڑکے کام کرتے تھے۔ وہ آتے ہی مسکرا کر سلام کرتے، گاہکوں کو بٹھاتے، پانی پیش کرتے، اور نرمی سے کپڑے دکھاتے۔

        اکثر عورتیں دکان سے نکلتے ہوئے کہتیں:
        “کپڑے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں، مگر یہاں دل لگتا ہے۔”

        امیر یہ سب دیکھتا ضرور تھا، مگر دل میں ایک چبھن رہتی۔
        اسے لگتا تھا کہ عزت اور تعریف ان لڑکوں کو کیوں مل رہی ہے؟
        وہ خود سے کہتا:
        “اصل مال تو میرا ہے، یہ لڑکے تو بس بیچ رہے ہیں۔”

        ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ خود دکان پر بیٹھے گا۔
        لڑکوں کو آدھا وقت کر دیا گیا، پھر آہستہ آہستہ نکال دیا گیا۔

        شروع کے دنوں میں امیر بڑے جوش سے بیٹھا۔
        اسے لگتا تھا اب اصل کاروبار شروع ہوگا۔

        لیکن اس کے اندر کا مزاج دکان کے دروازے سے پہلے ہی داخل ہو چکا تھا۔

        ایک بوڑھی عورت آئی، اس نے ایک جوڑا نکالا، ہاتھ میں لیا، خاموشی سے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی:
        “بیٹا، ذرا اور دکھا دو، پسند نہیں آ رہا۔”

        امیر نے کپڑا جھٹک کر رکھا:
        “اگر پسند نہیں تو اور دکانیں بھی ہیں، یہاں وقت مت ضائع کرو!”

        بوڑھی عورت کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
        وہ کچھ کہے بغیر چلی گئی۔

        کچھ دن بعد ایک نوجوان آیا۔ اس نے قیمت سن کر کہا:
        “بھائی، ذرا کم کر دو، شادی کا خرچ ہے۔”

        امیر کے لہجے میں زہر گھل گیا:
        “شادی کرنی ہے تو پیسے پورے لے کر آؤ، بھاؤ تاؤ یہاں نہیں ہوتا!”

        نوجوان نے کپڑا واپس رکھا اور دروازے سے نکلتے ہوئے کہا:
        “کپڑا اچھا ہے، مگر زبان اس سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔”

        امیر نے یہ جملہ سنا، مگر دل تک نہ پہنچنے دیا۔

        وقت گزرتا گیا۔
        دکان میں وہ رونق نہ رہی۔
        جو پہلے آتے تھے، اب سامنے سے گزر کر بھی نظر نہیں ملاتے تھے۔

        ایک دن بازار کے کونے میں ایک چھوٹی سی دکان کھلی۔
        دکان پر ایک بزرگ بیٹھتے تھے۔
        مال سادہ تھا، مگر لہجہ نرم۔

        امیر نے دیکھا کہ اس چھوٹی سی دکان پر رش رہتا ہے۔
        ایک دن اس نے حیرت سے پوچھ ہی لیا:
        “بابا، آپ کے پاس تو خاص مال بھی نہیں، پھر لوگ اتنے کیوں آتے ہیں؟”

        بزرگ مسکرائے، اور آہستہ سے بولے:
        “بیٹا، لوگ کپڑا کم، سکون زیادہ خریدتے ہیں۔”

        یہ بات امیر کے دل میں اٹک گئی، مگر نفس نے ماننے نہ دیا۔

        کچھ عرصے بعد امیر کی دکان پر وہی لڑکا فرکان آیا، جو پہلے یہاں کام کرتا تھا۔
        وہ ایک اور دکان پر ملازم تھا، مطمئن، پُرسکون۔

        امیر نے پوچھا:
        “کیسا چل رہا ہے؟”

        فرکان نے ادب سے کہا:
        “رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، بس لہجہ ہمارا ہونا چاہیے۔”

        یہ جملہ امیر کے سینے میں اتر گیا۔

        اسی رات امیر دکان بند کر کے اکیلا بیٹھا رہا۔
        خاموش دکان، بند شو کیس، اور دیواروں سے ٹکراتی اس کی اپنی آوازیں۔
        اسے وہ دن یاد آئے جب دکان ہنستی تھی، جب لوگ دعائیں دے کر جاتے تھے۔

        اچانک اس کے ذہن میں اس کے والد کی بات گونجی، جو وہ اکثر کہتے تھے:
        “بیٹا، رزق نرمی سے بڑھتا ہے، سختی سے نہیں۔”

        اس رات امیر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
        پہلی بار اسے احساس ہوا کہ نقصان صرف پیسے کا نہیں ہوا،
        دلوں کا ہوا ہے۔

        اگلے دن وہ دکان کھول کر بیٹھا، مگر اس دن اس کی آواز بدلی ہوئی تھی۔
        جو گاہک آیا، اسے بیٹھنے کو کہا۔
        کسی نے نہ خریدا، تب بھی مسکرا کر کہا:
        “کوئی بات نہیں، پھر آ جائیے گا۔”

        دکان فوراً نہیں چلی،
        مگر امیر کے اندر کچھ چل پڑا تھا—
        اس کا ضمیر۔

        یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
        دکان تو ہاتھ سے چلتی ہے،
        مگر کاروبار دل سے چلتا ہے۔

        اور جب دل ٹھیک ہو جائے،
        تو دیر سے ہی سہی،
        راستے خود بننے لگتے ہیں۔