علی ایک ذہین مگر شرارتی بچہ تھا، جو اکثر اپنے روزمرہ کے معمولات سے بور ہو جاتا تھا۔ وہ شکایت کرتا رہتا:
“ہر وقت پڑھائی، پھر سکول، پھر قرآن پڑھنے جانا… کھیلنے کا وقت ہی نہیں بچتا!”

اسی بات پر وہ کئی بار اپنی امی سے بحث بھی کر لیتا۔ امی ہمیشہ پیار سے سمجھاتیں کہ زندگی میں نظم و ضبط ضروری ہوتا ہے اور ہر کام کا ایک مناسب وقت ہونا چاہیے، مگر علی اس بات کو اس وقت سمجھ نہیں پاتا تھا۔
جرمنی سے آیا ہوا خاص روبوٹ
علی کے پاس ایک خاص روبوٹ تھا، جو اس کے ابو اس کے لیے جرمنی سے تحفے میں لائے تھے۔
یہ روبوٹ عام روبوٹ نہیں تھا بلکہ اس میں خاص میجک پاورز تھیں، جو مشکل کام آسان بنا دیتی تھیں۔ علی کو اپنے روبوٹ سے بہت لگاؤ تھا اور وہ اسے اپنا بہترین دوست سمجھتا تھا۔

جنگل کا سفر اور نیا گھر
ایک دن علی روز کی روٹین سے بہت زیادہ تنگ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ دن اپنی مرضی کی زندگی گزاری جائے۔
وہ چپکے سے اپنے روبوٹ کو ساتھ لے کر گھر سے نکل گیا۔ گھر کے قریب ہی ایک راستہ جنگل کی طرف جاتا تھا، دونوں اسی راستے پر چل پڑے۔


جنگل میں پہنچ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ بنانی چاہیے۔ ان کی نظر ایک اونچے اور مضبوط درخت پر پڑی۔
روبوٹ نے اپنی میجک پاورز استعمال کیں۔ جنگل میں موجود لکڑیوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا، پھر انہیں درست سائز میں کاٹا گیا، مضبوطی سے جوڑا گیا اور آہستہ آہستہ درخت کے اوپر ایک خوبصورت لکڑی کا گھر تیار ہو گیا۔
اس گھر میں کھڑکیاں تھیں، ایک چھوٹا دروازہ تھا اور اندر سونے کے لیے بھی مناسب جگہ بنائی گئی تھی۔ گھر اتنا مضبوط تھا کہ ہوا اور بارش کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ علی یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے لگا کہ اس کی خواہش پوری ہو گئی ہے۔

روٹین کے بغیر زندگی
شروع میں یہ زندگی بہت مزے کی لگتی تھی۔
علی اور روبوٹ کسی بھی روٹین کو فالو نہیں کرتے تھے۔ سکول جانا ختم ہو گیا تھا۔
روبوٹ کے میجک کے ذریعے روز پیزا، برگر، آئس کریم اور چاکلیٹ آ جاتی۔
دن رات کھیل، آزادی اور مزہ ہی مزہ تھا۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں اس زندگی کے نقصانات سامنے آنے لگے۔
مسلسل جنک فوڈ کھانے کی وجہ سے ان کے دانت خراب ہونے لگے، پیٹ میں درد رہنے لگا اور آہستہ آہستہ ان ساری چیزوں سے ان کا دل بھی بھر گیا۔ اب نہ پیزا اچھا لگتا تھا، نہ برگر اور نہ ہی آئس کریم۔
ماں کے ہاتھ کا کھانا یاد آنا
ایک دن علی خاموش بیٹھا تھا۔
اچانک اسے اپنا گھر یاد آنے لگا۔
امی کے ہاتھ کا بنا ہوا سادہ مگر صحت مند کھانا،
وہ ٹفن جو امی روز پیار سے پیک کیا کرتی تھیں،
اور ایک منظم زندگی — سب کچھ اسے یاد آنے لگا۔

علی نے روبوٹ سے کہا:
“مجھے اب سمجھ آ گیا ہے کہ آزادی بھی ایک حد تک ہی اچھی لگتی ہے۔”
اب علی کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کے والدین اس کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں اور جو روٹین اسے بوجھ لگتی تھی، وہ دراصل اس کی بہتری کے لیے ہی تھی۔
گھر واپسی
آخرکار علی اور اس کے روبوٹ نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔
جب علی گھر پہنچا تو امی بہت خوش ہوئیں۔ علی نے ان سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ اب وہ روٹین کی قدر کرے گا، وقت پر پڑھائی کرے گا، قرآن پڑھے گا اور کھیل کے وقت کو بھی صحیح طریقے سے استعمال کرے گا۔
امی نے علی کو پیار سے گلے لگا لیا۔

✨ سبق آموز پیغام ✨
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
- ہر چیز ایک حد کے اندر ہی اچھی لگتی ہے
- آزادی بغیر ذمہ داری کے فائدہ نہیں دیتی
- والدین کی بنائی ہوئی روٹین ہمارے بہتر مستقبل کے لیے ہوتی ہے
- متوازن زندگی ہی اصل کامیابی ہے
























