Category: Urdu Stories & Bedtime Reads

  • علی اور اس کا روبوٹ | روٹین کی اہمیت پر سبق آموز بچوں کی اردو کہانی


    علی ایک ذہین مگر شرارتی بچہ تھا، جو اکثر اپنے روزمرہ کے معمولات سے بور ہو جاتا تھا۔ وہ شکایت کرتا رہتا:
    “ہر وقت پڑھائی، پھر سکول، پھر قرآن پڑھنے جانا… کھیلنے کا وقت ہی نہیں بچتا!”

    اسی بات پر وہ کئی بار اپنی امی سے بحث بھی کر لیتا۔ امی ہمیشہ پیار سے سمجھاتیں کہ زندگی میں نظم و ضبط ضروری ہوتا ہے اور ہر کام کا ایک مناسب وقت ہونا چاہیے، مگر علی اس بات کو اس وقت سمجھ نہیں پاتا تھا۔

    جرمنی سے آیا ہوا خاص روبوٹ

    علی کے پاس ایک خاص روبوٹ تھا، جو اس کے ابو اس کے لیے جرمنی سے تحفے میں لائے تھے۔
    یہ روبوٹ عام روبوٹ نہیں تھا بلکہ اس میں خاص میجک پاورز تھیں، جو مشکل کام آسان بنا دیتی تھیں۔ علی کو اپنے روبوٹ سے بہت لگاؤ تھا اور وہ اسے اپنا بہترین دوست سمجھتا تھا۔

    جنگل کا سفر اور نیا گھر

    ایک دن علی روز کی روٹین سے بہت زیادہ تنگ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ دن اپنی مرضی کی زندگی گزاری جائے۔
    وہ چپکے سے اپنے روبوٹ کو ساتھ لے کر گھر سے نکل گیا۔ گھر کے قریب ہی ایک راستہ جنگل کی طرف جاتا تھا، دونوں اسی راستے پر چل پڑے۔

    جنگل میں پہنچ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ بنانی چاہیے۔ ان کی نظر ایک اونچے اور مضبوط درخت پر پڑی۔
    روبوٹ نے اپنی میجک پاورز استعمال کیں۔ جنگل میں موجود لکڑیوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا، پھر انہیں درست سائز میں کاٹا گیا، مضبوطی سے جوڑا گیا اور آہستہ آہستہ درخت کے اوپر ایک خوبصورت لکڑی کا گھر تیار ہو گیا۔

    اس گھر میں کھڑکیاں تھیں، ایک چھوٹا دروازہ تھا اور اندر سونے کے لیے بھی مناسب جگہ بنائی گئی تھی۔ گھر اتنا مضبوط تھا کہ ہوا اور بارش کا مقابلہ کر سکتا تھا۔ علی یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے لگا کہ اس کی خواہش پوری ہو گئی ہے۔

    روٹین کے بغیر زندگی

    شروع میں یہ زندگی بہت مزے کی لگتی تھی۔
    علی اور روبوٹ کسی بھی روٹین کو فالو نہیں کرتے تھے۔ سکول جانا ختم ہو گیا تھا۔
    روبوٹ کے میجک کے ذریعے روز پیزا، برگر، آئس کریم اور چاکلیٹ آ جاتی۔

    دن رات کھیل، آزادی اور مزہ ہی مزہ تھا۔

    لیکن کچھ ہی دنوں میں اس زندگی کے نقصانات سامنے آنے لگے۔

    مسلسل جنک فوڈ کھانے کی وجہ سے ان کے دانت خراب ہونے لگے، پیٹ میں درد رہنے لگا اور آہستہ آہستہ ان ساری چیزوں سے ان کا دل بھی بھر گیا۔ اب نہ پیزا اچھا لگتا تھا، نہ برگر اور نہ ہی آئس کریم۔

    ماں کے ہاتھ کا کھانا یاد آنا

    ایک دن علی خاموش بیٹھا تھا۔
    اچانک اسے اپنا گھر یاد آنے لگا۔
    امی کے ہاتھ کا بنا ہوا سادہ مگر صحت مند کھانا،
    وہ ٹفن جو امی روز پیار سے پیک کیا کرتی تھیں،
    اور ایک منظم زندگی — سب کچھ اسے یاد آنے لگا۔

    علی نے روبوٹ سے کہا:
    “مجھے اب سمجھ آ گیا ہے کہ آزادی بھی ایک حد تک ہی اچھی لگتی ہے۔”

    اب علی کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کے والدین اس کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں اور جو روٹین اسے بوجھ لگتی تھی، وہ دراصل اس کی بہتری کے لیے ہی تھی۔

    گھر واپسی

    آخرکار علی اور اس کے روبوٹ نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔
    جب علی گھر پہنچا تو امی بہت خوش ہوئیں۔ علی نے ان سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ اب وہ روٹین کی قدر کرے گا، وقت پر پڑھائی کرے گا، قرآن پڑھے گا اور کھیل کے وقت کو بھی صحیح طریقے سے استعمال کرے گا۔

    امی نے علی کو پیار سے گلے لگا لیا۔


    ✨ سبق آموز پیغام ✨

    یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

    • ہر چیز ایک حد کے اندر ہی اچھی لگتی ہے
    • آزادی بغیر ذمہ داری کے فائدہ نہیں دیتی
    • والدین کی بنائی ہوئی روٹین ہمارے بہتر مستقبل کے لیے ہوتی ہے
    • متوازن زندگی ہی اصل کامیابی ہے

  • دو شیروں کی دوستی اور حسد کا انجام


    کسی گھنے اور سرسبز جنگل میں دو عظیم الشان شیر رہتے تھے۔
    ایک کا نام شیرِ دلیر (اسد) تھا اور دوسرے کا نام شیرِ بہادر (فہد)۔
    یہ دونوں نہ صرف جنگل کے بادشاہ تھے بلکہ ایک دوسرے کے سچے اور گہرے دوست بھی تھے۔

    جنگل میں امن تھا، کیونکہ جہاں اسد اور فہد ساتھ ہوتے، وہاں ظلم، ناانصافی اور فتنہ پنپ نہیں سکتا تھا۔ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے، فیصلے مل کر کرتے اور کمزور جانوروں کی حفاظت کرتے۔

    لیکن جنگل میں کچھ جانور ایسے بھی تھے جنہیں یہ دوستی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    حسد کی آگ

    جنگل کے ایک کونے میں ایک لومڑی رہتی تھی، جو نہایت چالاک مگر دل کی سیاہ تھی۔ وہ اکثر خود سے کہتی:

    “جب تک یہ دونوں شیر اکٹھے ہیں، ہم جیسے ہوشیار جانور کبھی طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔
    ان کی دوستی توڑنی ہوگی!”

    ایک دن لومڑی نے چند حسد زدہ جانوروں کو جمع کیا اور کہا:

    “ہم طاقت سے تو شیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے،
    مگر الفاظ سے دل توڑے جا سکتے ہیں۔
    تم سب باری باری جاؤ،
    ایک شیر سے کہو کہ دوسرا اس کے خلاف باتیں کرتا ہے۔
    یہ کام آہستہ آہستہ کرو، تاکہ شک دل میں گھر کر جائے۔”

    کان بھرنے کا کھیل

    چند دن بعد ایک ہرن اسد کے پاس آیا اور جھجکتے ہوئے بولا:

    “بادشاہ سلامت…
    میں یہ بات کہتے ہوئے ڈرتا ہوں،
    مگر فہد آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ
    آپ اکیلے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔”

    اسد چونک گیا، مگر خاموش رہا۔

    کچھ دن بعد ایک بھیڑیا فہد کے پاس گیا:

    “اے جنگل کے بادشاہ!
    اسد کہتا ہے کہ تم اس کے راستے کی رکاوٹ ہو۔
    وہ تمہیں ہٹانا چاہتا ہے۔”

    یوں کئی دن گزر گئے۔
    ہر دن کوئی نہ کوئی جانور آتا اور زہر گھول جاتا۔

    رفتہ رفتہ اسد اور فہد نے ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دی۔
    دوستی میں دراڑ پڑ گئی،
    اور شک نے اعتماد کو نگل لیا۔

    اعلانِ جنگ

    ایک دن اسد غصے سے گرجا:

    “فہد!
    میں نے تمہیں بھائی سمجھا،
    مگر تم نے مجھے دھوکہ دیا!
    تم مجھے مار کر اکیلے راج کرنا چاہتے ہو!”

    فہد بھی دہاڑ اٹھا:

    “یہ جھوٹ ہے!
    مگر اگر تم نے میرے خلاف تلوار اٹھائی
    تو میں بھی خاموش نہیں رہوں گا!”

    جنگل دو حصوں میں بٹ گیا۔
    ہر جانور اپنے پسندیدہ شیر کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
    جنگ کا میدان سجنے لگا۔

    عقل مند بندر کی آمد

    جنگ شروع ہونے ہی والی تھی کہ ایک بوڑھا بندر آگے بڑھا۔
    وہ جنگل میں عقل و دانائی کے لیے مشہور تھا۔

    اس نے بلند آواز میں کہا:

    “رُکو!
    کیا تم دونوں اپنی برسوں کی دوستی کو
    چند باتوں پر قربان کر دو گے؟”

    اس نے دونوں سے الگ الگ کہانی سنی۔
    پھر ایک ہی جگہ سب جانوروں کو جمع کیا
    اور سوالات شروع کیے۔

    لومڑی اور اس کے ساتھی ہچکچانے لگے۔
    ان کے چہروں سے حسد عیاں ہو گیا۔

    بندر نے کہا:

    “اگر آج یہ جنگ ہوتی
    تو نہ جانے کتنے جانور مرتے،
    اور شاید تم دونوں بھی نہ بچتے۔
    پھر اس جنگل کا کیا ہوتا؟”

    اصل سبق

    بندر نے آخر میں کہا:

    “فتنہ ابتدا میں ختم کر دیا جائے
    تو آگ نہیں بنتا،
    اور اگر چھوڑ دیا جائے
    تو پورا جنگل جلا دیتا ہے۔”

    پھر اسد اور فہد ایک دوسرے کے قریب آئے۔
    دونوں کی آنکھوں میں ندامت تھی۔
    انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔

    حدیثِ مبارکہ

    اسی موقع پر بندر نے کہا:

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    “کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے،
    یہ دونوں ملتے ہیں، ایک منہ پھیر لیتا ہے اور دوسرا بھی منہ پھیر لیتا ہے،
    اور ان میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔”

    (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

    اختتام

    اس دن کے بعد اسد اور فہد نے یہ عہد کیا
    کہ وہ کبھی کسی کی بات سن کر
    ایک دوسرے پر شک نہیں کریں گے
    بلکہ پہلے آمنے سامنے بات کریں گے۔

    جنگل میں پھر امن لوٹ آیا،
    اور حسد کرنے والے خود رسوا ہو گئے۔

  • پہاڑوں سے جدائی: مینو کی خاموش کہانی

    مینو، گل خان اور پلبشا ایک سادہ مگر خوشحال خاندان تھے جو پہاڑوں کے درمیان آباد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ خاندان فطرت کے بہت قریب زندگی گزار رہا تھا۔ بلند پہاڑ، ٹھنڈی ہوا، سبز وادیاں اور صاف آسمان ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ مینو، جو اس خاندان کی ایک کم عمر بچی تھی، ان پہاڑوں سے بے حد محبت کرتی تھی کیونکہ اس کا پورا بچپن وہیں گزرا تھا۔

    ہر صبح مینو جلدی اٹھتی، اپنے گھر کے قریب موجود ایک پہاڑ پر چڑھ جاتی اور وہاں کھیلتی رہتی۔ وہی پہاڑ اس کی کھیلنے کی جگہ تھے، وہیں اس کی ہنسی بستی تھی اور وہیں وہ پورا دن گزار دیتی۔ اس کے لیے یہ پہاڑ صرف زمین کا حصہ نہیں بلکہ اس کی یادوں اور خوشیوں کی دنیا تھے۔

    وقت کے ساتھ ساتھ مینو نے محسوس کیا کہ اس کے والد گل خان اکثر پریشان رہنے لگے ہیں۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کے والد خاموشی سے بیٹھے ہوئے ہیں، آنکھوں میں نمی ہے اور وہ اس کی والدہ سے کہہ رہے ہیں کہ سامان پیک کرنے کی تیاری کرو، ہمیں یہاں سے ہجرت کرنا ہوگی۔ صرف وہی نہیں بلکہ گاؤں کے کئی اور خاندان بھی یہی فیصلہ کر چکے تھے۔

    یہ بات مینو کے لیے بالکل نئی اور حیران کن تھی۔ وہ کھیل چھوڑ کر فوراً اپنے والد کے پاس گئی اور معصوم لہجے میں پوچھا کہ ہمیں اپنا گھر کیوں چھوڑنا پڑ رہا ہے؟ گل خان نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ موسم میں شدید تبدیلی آ چکی ہے۔ بے وقت بارشیں، غیر متوقع موسمی حالات اور فصلوں کی مسلسل تباہی نے ان کا گزر بسر مشکل بنا دیا ہے۔ اب مزید نقصان برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔

    یہ سن کر مینو بہت اداس ہو گئی۔ وہ خاموشی سے پہاڑوں کی طرف چلی گئی، ان کو دیکھ کر رو پڑی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کاش وہ ان سے کبھی جدا نہ ہوتی۔ یہی اس کی کھیلنے کی جگہ تھی، یہی اس کی خوشیوں کا گھر تھا، مگر اب اسے سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑ رہا تھا۔

    گھر واپس آ کر مینو کا موڈ بہت خراب تھا۔ اس نے اپنے والد کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں سامان پیک کرنے میں مصروف تھے۔ مینو کی ضد اور ناراضی نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا۔ گل خان، جو پہلے ہی ذہنی دباؤ میں تھے، جلد روانگی کا کہنے لگے تاکہ باقی لوگوں کے ساتھ گاؤں چھوڑ سکیں۔

    مینو نے اپنی ماں سے بحث کی، مگر ماں نے نرمی اور محبت سے سمجھایا کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ مینو اس عمر میں ان باتوں کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتی تھی، مگر حقیقت یہی تھی کہ انسان کی سرگرمیوں نے فطرت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔

    آج دنیا کے کئی حصوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم بے قابو ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک انسان یا ایک ملک کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اکٹھے ہو کر کانفرنس آف پارٹیز (COP) جیسے عالمی اجلاس منعقد کرتے ہیں، جہاں گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسز پر گفتگو کی جاتی ہے۔

    ماضی میں اوزون لیئر کو شدید نقصان پہنچا تھا، مگر عالمی تعاون کی بدولت اسے بڑی حد تک بحال کر لیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان مل کر کوشش کرے تو ماحولیاتی مسائل کا حل ممکن ہے۔

    مینو کی کہانی دراصل ان بے شمار بچیوں اور بچوں کی نمائندگی کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اپنا گھر، اپنی زمین اور اپنا بچپن چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر آج فطرت کی حفاظت نہ کی گئی تو کل ہمیں بھی مینو کی طرح ہجرت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • ایک فائدہ مند درخت کی کہانی | انسانیت، خدمت اور اچھے اخلاق کا سبق

    ایک سرسبز اور پرسکون علاقے میں ایک بہت بڑا، گھنا اور خوبصورت درخت ہوا کرتا تھا۔ اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں، پتے ہرے بھرے اور گھنے تھے، اور ہر موسم میں اس پر بکثرت میٹھے پھل لگتے تھے۔ دور سے دیکھنے والا کوئی بھی شخص اس درخت کو دیکھ کر رک جاتا، کیونکہ اس میں ایک عجیب سی کشش اور سکون تھا۔ یہ درخت اس علاقے کی خوبصورتی اور پہچان بن چکا تھا۔

    گرمی کے دنوں میں مسافر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ کر آرام کرتے، اپنی تھکن اتارتے اور تازہ دم ہو کر آگے کا سفر شروع کرتے۔ دوپہر کے وقت قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ کچھ دیر کے لیے اس کے نیچے بیٹھتے اور سکون کا سانس لیتے۔ شام کے وقت بزرگ حضرات اپنے گھروں سے کرسیاں لے کر آتے، اس درخت کے سائے میں بیٹھتے اور آپس میں زندگی کے تجربات، خوشی اور غم کی باتیں بانٹتے۔ یہ جگہ آہستہ آہستہ سب کے لیے ایک اجتماع کا مرکز بن گئی تھی۔

    بچے اس درخت سے خاص محبت کرتے تھے۔ وہ اس کی مضبوط اور اونچی شاخوں کے ساتھ رسیاں باندھ کر خوبصورت جھولے لگا لیتے تھے۔ ہنستے کھیلتے بچے جب جھولا جھولتے تو ان کی ہنسی پورے ماحول کو خوشیوں سے بھر دیتی۔ درخت کے آس پاس کھیل کود، قہقہے اور معصوم خوشیاں بکھری رہتیں۔ پرندے بھی اس درخت کو اپنا گھر سمجھتے تھے، اس پر گھونسلے بناتے اور صبح کے وقت ان کی میٹھی چہچہاہٹ پورے علاقے میں زندگی کی رمق پیدا کر دیتی تھی۔

    یہ درخت کسی سے کچھ نہیں مانگتا تھا، مگر سب کو دیتا تھا۔ اپنی چھاؤں، اپنے پھل، اپنی خوبصورتی اور اپنے سکون کے ذریعے وہ خاموشی سے سب کی خدمت کر رہا تھا۔ لوگ اس درخت کی قدر کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ درخت ان کی زندگی میں آسانی اور راحت کا سبب ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نیک انسان اور اچھی بات کی مثال بھی ایک فائدہ مند درخت سے دی ہے۔ فرمایا گیا:
    “کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے؟ پاکیزہ بات کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی سی ہے، جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں، وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے۔”
    یہ آیت اس درخت کی حقیقت کو مزید واضح کر دیتی ہے، کیونکہ جیسے وہ درخت سب کو فائدہ دیتا تھا، ویسے ہی نیک انسان اپنے اچھے اعمال سے معاشرے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

    ایک رات موسم نے کروٹ بدلی۔ آسمان پر بادل چھا گئے، ہوا تیز ہو گئی اور گرج چمک ہونے لگی۔ رات کی تاریکی میں ایک قدرتی حادثے کے باعث اس درخت کو شدید نقصان پہنچا۔ چونکہ سب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، اس لیے کسی کو فوراً خبر نہ ہو سکی۔

    اگلی صبح جب لوگ حسبِ معمول اس جگہ پہنچے تو وہ خوبصورت درخت اپنی پرانی حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل اداس ہو گئے۔ بچوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، بزرگ خاموش کھڑے تھے اور ہر شخص کے دل میں ایک خالی پن سا محسوس ہو رہا تھا۔ حالانکہ وہ ایک درخت تھا، کوئی انسان نہیں، مگر اس نے لوگوں کو اتنا فائدہ دیا تھا کہ اس کے نہ ہونے کا دکھ سب کو شدت سے محسوس ہوا۔

    اس موقع پر لوگوں کو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا:
    “سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”
    تب سب نے محسوس کیا کہ یہی خوبی اس درخت میں تھی، جو خاموشی سے سب کے لیے فائدہ مند بنا رہا۔

    یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے فائدے میں ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، محبت بانٹتا ہے اور اچھے اخلاق اپناتا ہے، وہ دنیا میں بھی قدر پاتا ہے اور دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہ درخت تو وقت کے ساتھ ختم ہو گیا، مگر اس کی یاد، اس کی خدمت اور اس کا دیا ہوا سبق ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

  • تین ننھی بلیاں: محنت اور تیاری کا سنہری سبق


    تین ننھی بلیوں نے اپنے اپنے گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہر بلی نے اپنی سوچ اور محنت کے مطابق گھر بنانے کا طریقہ چُنا۔

    پہلی بلی جلدی میں تھی۔ وہ کھیلتی ہوئی کھال سے بنا ایک گھر تیار کر گئی، کیونکہ اس کے نزدیک وقت بچانا سب سے اہم تھا۔ دوسری بلی زیادہ محنت نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے اس نے لکڑی کا گھر بنا لیا اور مطمئن ہو گئی کہ یہ کافی ہوگا۔

    تیسری بلی سب سے زیادہ سمجھدار تھی۔ اس نے مستقبل کے بارے میں سوچا اور اینٹوں سے مضبوط گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کئی دن محنت کی اور اینٹ پر اینٹ رکھ کر ایک مضبوط گھر تیار کیا۔

    پہلی دو بلیاں اس کا مذاق اُڑانے لگیں۔
    “اتنی محنت کیوں کر رہی ہو؟ تم وقت ضائع کر رہی ہو!”

    تیسری بلی پُرسکون انداز میں بولی،
    “مضبوط بنیاد بہت ضروری ہوتی ہے۔ اگر خطرہ آیا تو صرف تیاری ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔”

    کچھ ہی دنوں بعد ایک بھوکا بھیڑیا اس علاقے میں آ گیا۔ اس نے زور سے پھونک ماری اور کھال کا گھر فوراً گر گیا۔ پہلی بلی جان بچا کر لکڑی کے گھر میں بھاگ گئی۔ بھیڑیا پیچھے آیا اور لکڑی کا گھر بھی آسانی سے توڑ دیا۔ دونوں بلیاں خوفزدہ ہو کر اینٹوں کے گھر کی طرف دوڑ گئیں۔

    بھیڑیا اینٹوں کے گھر کو گرانے کی پوری کوشش کرتا رہا، مگر وہ گھر اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ آخرکار اس نے چمنی کے راستے اندر آنے کی کوشش کی۔ لیکن بلیاں پہلے ہی تیار تھیں۔ چمنی کے نیچے کھولتے پانی کا برتن رکھا ہوا تھا۔

    بھیڑیا اس میں گر پڑا، چیختا چلاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا اور دوبارہ کبھی واپس نہ آیا۔

    اس دن تینوں بلیوں نے سیکھ لیا کہ محنت اور دور اندیشی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اینٹوں کا مضبوط گھر ان سب کے لیے حفاظت اور سکون کا سبب بن گیا۔


    کہانی کا سبق

    محنت، صبر اور پیشگی تیاری زندگی کے مسائل سے بچاتی ہے۔ مضبوط بنیادیں ہی مشکل وقت میں ہماری حفاظت کرتی ہیں۔


    کہانی اور ہماری روزمرہ زندگی — پاکستان کے تناظر میں

    تین ننھی بلیوں کی یہ کہانی دراصل صرف بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک گہرا عکس ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں حالات اکثر غیر یقینی ہوتے ہیں۔

    پہلی اور دوسری بلی اُن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ وقتی فائدے کے لیے محنت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں — چاہے وہ تعلیم ہو، کاروبار ہو، یا تعمیرات۔ کم معیار کا کام، بغیر منصوبہ بندی کے فیصلے، اور “ابھی گزارا ہو جائے گا” والا رویہ بالآخر مسائل کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سا بحران آتے ہی یہ کمزور نظام ٹوٹ جاتا ہے، جیسے کھال اور لکڑی کے گھر۔

    تیسری بلی اُن افراد کی علامت ہے جو محنت، صبر اور دور اندیشی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے لوگ کم سہی، مگر موجود ہیں — وہ والدین جو بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہ نوجوان جو مہارتیں سیکھتے ہیں، اور وہ تاجر جو معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اینٹوں کا گھر اسی مضبوط منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کی علامت ہے جو مشکلات کے طوفان میں بھی قائم رہتی ہے۔

    بھیڑیا ہماری زندگی کے اُن خطرات کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی بھی وقت آ سکتے ہیں، جیسے:

    • مہنگائی
    • بے روزگاری
    • صحت کے مسائل
    • قدرتی آفات
    • معاشی یا سماجی بحران

    جو لوگ پہلے سے تیاری نہیں کرتے، وہ ان حالات میں شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ مضبوط بنیادیں رکھتے ہیں — تعلیم، بچت، ہنر، اور اخلاقی اقدار — وہ ان چیلنجز کا مقابلہ بہتر انداز میں کر لیتے ہیں۔

    چمنی میں کھولتے پانی والا منظر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف محنت ہی کافی نہیں، عقل اور حکمت بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں حالات سے نمٹنے کے لیے ہمیں جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔


  • محنت اور کوشش سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے | بھیک مانگنے سے کامیابی تک ایک سبق آموز کہانی


    زندگی میں کامیابی کبھی آسان راستے سے نہیں ملتی۔ بعض اوقات انسان کو ذلت، سوالات اور اندرونی کشمکش سے گزر کر ہی صحیح سمت ملتی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جس نے بھیک مانگنے جیسے آسان مگر بےعزت راستے کو چھوڑ کر محنت اور خودداری کو اپنایا اور کامیابی حاصل کی۔

    یہ کہانی عادل نامی ایک بچے کی ہے جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد کسی وجہ سے اس کی ماں کو چھوڑ کر جا چکے تھے۔ گھر میں صرف ماں اور بیٹا تھے، اور ماں کی کفالت کی ذمہ داری کم عمری میں ہی عادل کے کندھوں پر آ گئی تھی۔

    عادل کے سامنے دو راستے تھے:
    ایک یہ کہ وہ کسی ہوٹل یا دکان پر مزدوری کرے، اور دوسرا یہ کہ آسان راستہ اختیار کرے — یعنی بھیک مانگنا۔ حالات کی سختی اور کم عمری نے اسے اسی آسان راستے کی طرف دھکیل دیا۔ وہ روز سڑکوں پر بھیک مانگتا، مگر اپنی ماں کو یہ بتاتا کہ وہ کسی ہوٹل میں مزدوری کرتا ہے۔

    شروع میں یہ کام اسے آسان لگا، کیونکہ بغیر زیادہ محنت کے کچھ پیسے مل جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ بھیک مانگنا اس کی عادت بن گیا اور پھر یہی اس کا مستقل ذریعۂ آمدن بن گیا۔ مگر جیسے جیسے اس کا شعور بڑھا، ویسے ویسے اسے اس کام کی ذلت محسوس ہونے لگی۔ ہر قسم کے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا، سننا، برداشت کرنا — یہ سب اس کے بڑھتے ہوئے دماغ کو اندر سے جھنجھوڑنے لگا۔

    آخرکار اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس کے آس پاس بہت سے لوگ محنت کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر وہ کیوں نہیں؟ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھیک کے پیسوں کو کسی ایسے کام میں لگائے گا جو اس کے لیے باعزت روزگار بن سکے۔

    اس نے اپنی تھوڑی سی جمع پونجی اور کچھ ادھار لے کر آلو کے چپس کی ایک چھوٹی سی ریڑھی لگا لی۔ اب وہ روز آلو لاتا، انہیں چھیلتا، صاف کرتا، چپس بناتا اور خود بیچتا۔ لوگ اس کم سن بچے کی محنت دیکھ کر خوش دلی سے اس سے خریدنے لگے۔ کئی لوگوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے کام کو آگے بڑھانے میں مدد بھی کی۔

    ایک دو سال کی مسلسل محنت کے بعد عادل کو منافع ملنے لگا۔ وہ پہلے سے زیادہ پیسے گھر لانے لگا، حتیٰ کہ وہ اس قابل ہو گیا کہ اگر کوئی واقعی مستحق اس کے سامنے آئے تو وہ اس کی مدد بھی کر سکے۔ یہی عادل، جو کبھی خود مانگنے پر مجبور تھا، اب دوسروں کا سہارا بننے لگا تھا۔

    وقت کے ساتھ اس نے مزید ریڑھیاں لگائیں، لوگوں کو کام دیا، اور آخرکار ایک عمارت کرائے پر لے کر اپنی باقاعدہ دکان کھول لی۔ اس نے اپنی دکان کا نام رکھا:

    “All Types of Fries”

    آج عادل کے کاروبار کی پورے پاکستان میں کئی فرنچائزز ہیں۔ وہ ایک بہترین گھر، اچھی گاڑی اور باعزت زندگی کا مالک ہے، اور اس کی ماں خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔


    پاکستان میں بھیک مانگنا — ایک سماجی مسئلہ

    آج پاکستان میں ہم جگہ جگہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے بےروزگار افراد نے بھیک مانگنے کو باقاعدہ پیشہ بنا لیا ہے۔ اس کے برعکس، وہ سفید پوش لوگ جنہیں واقعی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کبھی سڑکوں پر آ کر مانگتے نہیں۔

    یہ مسئلہ صرف ان بھیک مانگنے والوں کا نہیں، بلکہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ان کے پیچھے پورا نیٹ ورک چلا رہے ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت بھکاریوں کو مخصوص مقامات پر چھوڑا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بچوں کو اسکول چھوڑا جاتا ہے۔ پھر پورا دن وہ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر بھیک مانگتے ہیں، اور رات کے وقت ایک گاڑی آ کر انہیں واپس لے جاتی ہے۔

    یہ ایک ایسا پیشہ بن چکا ہے جس میں نہ کوئی سرمایہ کاری ہے اور نہ محنت۔ کئی بار لوگوں کو جان بوجھ کر معذور بنایا جاتا ہے یا ان کی حالت مزید خراب دکھائی جاتی ہے تاکہ ترس زیادہ آئے۔ آج کل تو یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ پورے پورے خاندان — ماں، باپ اور بچے — ایک جیسے کپڑے پہن کر سڑکوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مخصوص آوازوں میں بھیک مانگتے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک پر، ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک عورت اپنی دو بچیوں کو زبردستی رُلانے کے لیے انہیں مار رہی تھی تاکہ لوگ زیادہ پیسے دیں۔ یہ منظر ثابت کرتا ہے کہ بھیک مانگنا اب ایک سماجی بیماری بنتا جا رہا ہے۔

    یہ بیماری ناقابلِ علاج تو نہیں، مگر مشکل ضرور ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کو سخت اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ لوگ خود احساس کرنے والے نہیں ہیں۔


    سبق

    عادل کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محنت، کوشش اور اللہ پر بھروسہ انسان کو ہر مشکل سے نکال سکتا ہے۔ بھیک مانگنے سے زندگی نہیں بنتی۔ انسان ضرورت کے وقت ایک بار کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتا ہے، مگر بار بار ایسا کرنا گویا اللہ پر سے یقین اٹھا لینے کے مترادف ہے۔

    سچی نیت، باعزت روزگار اور مسلسل جدوجہد — یہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔