مینو، گل خان اور پلبشا ایک سادہ مگر خوشحال خاندان تھے جو پہاڑوں کے درمیان آباد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ خاندان فطرت کے بہت قریب زندگی گزار رہا تھا۔ بلند پہاڑ، ٹھنڈی ہوا، سبز وادیاں اور صاف آسمان ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ مینو، جو اس خاندان کی ایک کم عمر بچی تھی، ان پہاڑوں سے بے حد محبت کرتی تھی کیونکہ اس کا پورا بچپن وہیں گزرا تھا۔

ہر صبح مینو جلدی اٹھتی، اپنے گھر کے قریب موجود ایک پہاڑ پر چڑھ جاتی اور وہاں کھیلتی رہتی۔ وہی پہاڑ اس کی کھیلنے کی جگہ تھے، وہیں اس کی ہنسی بستی تھی اور وہیں وہ پورا دن گزار دیتی۔ اس کے لیے یہ پہاڑ صرف زمین کا حصہ نہیں بلکہ اس کی یادوں اور خوشیوں کی دنیا تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ مینو نے محسوس کیا کہ اس کے والد گل خان اکثر پریشان رہنے لگے ہیں۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کے والد خاموشی سے بیٹھے ہوئے ہیں، آنکھوں میں نمی ہے اور وہ اس کی والدہ سے کہہ رہے ہیں کہ سامان پیک کرنے کی تیاری کرو، ہمیں یہاں سے ہجرت کرنا ہوگی۔ صرف وہی نہیں بلکہ گاؤں کے کئی اور خاندان بھی یہی فیصلہ کر چکے تھے۔

یہ بات مینو کے لیے بالکل نئی اور حیران کن تھی۔ وہ کھیل چھوڑ کر فوراً اپنے والد کے پاس گئی اور معصوم لہجے میں پوچھا کہ ہمیں اپنا گھر کیوں چھوڑنا پڑ رہا ہے؟ گل خان نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بتایا کہ موسم میں شدید تبدیلی آ چکی ہے۔ بے وقت بارشیں، غیر متوقع موسمی حالات اور فصلوں کی مسلسل تباہی نے ان کا گزر بسر مشکل بنا دیا ہے۔ اب مزید نقصان برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔
یہ سن کر مینو بہت اداس ہو گئی۔ وہ خاموشی سے پہاڑوں کی طرف چلی گئی، ان کو دیکھ کر رو پڑی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کاش وہ ان سے کبھی جدا نہ ہوتی۔ یہی اس کی کھیلنے کی جگہ تھی، یہی اس کی خوشیوں کا گھر تھا، مگر اب اسے سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑ رہا تھا۔

گھر واپس آ کر مینو کا موڈ بہت خراب تھا۔ اس نے اپنے والد کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں سامان پیک کرنے میں مصروف تھے۔ مینو کی ضد اور ناراضی نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا۔ گل خان، جو پہلے ہی ذہنی دباؤ میں تھے، جلد روانگی کا کہنے لگے تاکہ باقی لوگوں کے ساتھ گاؤں چھوڑ سکیں۔

مینو نے اپنی ماں سے بحث کی، مگر ماں نے نرمی اور محبت سے سمجھایا کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ مینو اس عمر میں ان باتوں کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتی تھی، مگر حقیقت یہی تھی کہ انسان کی سرگرمیوں نے فطرت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔
آج دنیا کے کئی حصوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم بے قابو ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک انسان یا ایک ملک کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اکٹھے ہو کر کانفرنس آف پارٹیز (COP) جیسے عالمی اجلاس منعقد کرتے ہیں، جہاں گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسز پر گفتگو کی جاتی ہے۔

ماضی میں اوزون لیئر کو شدید نقصان پہنچا تھا، مگر عالمی تعاون کی بدولت اسے بڑی حد تک بحال کر لیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان مل کر کوشش کرے تو ماحولیاتی مسائل کا حل ممکن ہے۔
مینو کی کہانی دراصل ان بے شمار بچیوں اور بچوں کی نمائندگی کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اپنا گھر، اپنی زمین اور اپنا بچپن چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر آج فطرت کی حفاظت نہ کی گئی تو کل ہمیں بھی مینو کی طرح ہجرت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply