دو شیروں کی دوستی اور حسد کا انجام


کسی گھنے اور سرسبز جنگل میں دو عظیم الشان شیر رہتے تھے۔
ایک کا نام شیرِ دلیر (اسد) تھا اور دوسرے کا نام شیرِ بہادر (فہد)۔
یہ دونوں نہ صرف جنگل کے بادشاہ تھے بلکہ ایک دوسرے کے سچے اور گہرے دوست بھی تھے۔

جنگل میں امن تھا، کیونکہ جہاں اسد اور فہد ساتھ ہوتے، وہاں ظلم، ناانصافی اور فتنہ پنپ نہیں سکتا تھا۔ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے، فیصلے مل کر کرتے اور کمزور جانوروں کی حفاظت کرتے۔

لیکن جنگل میں کچھ جانور ایسے بھی تھے جنہیں یہ دوستی ایک آنکھ نہ بھائی۔

حسد کی آگ

جنگل کے ایک کونے میں ایک لومڑی رہتی تھی، جو نہایت چالاک مگر دل کی سیاہ تھی۔ وہ اکثر خود سے کہتی:

“جب تک یہ دونوں شیر اکٹھے ہیں، ہم جیسے ہوشیار جانور کبھی طاقت حاصل نہیں کر سکتے۔
ان کی دوستی توڑنی ہوگی!”

ایک دن لومڑی نے چند حسد زدہ جانوروں کو جمع کیا اور کہا:

“ہم طاقت سے تو شیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے،
مگر الفاظ سے دل توڑے جا سکتے ہیں۔
تم سب باری باری جاؤ،
ایک شیر سے کہو کہ دوسرا اس کے خلاف باتیں کرتا ہے۔
یہ کام آہستہ آہستہ کرو، تاکہ شک دل میں گھر کر جائے۔”

کان بھرنے کا کھیل

چند دن بعد ایک ہرن اسد کے پاس آیا اور جھجکتے ہوئے بولا:

“بادشاہ سلامت…
میں یہ بات کہتے ہوئے ڈرتا ہوں،
مگر فہد آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ
آپ اکیلے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔”

اسد چونک گیا، مگر خاموش رہا۔

کچھ دن بعد ایک بھیڑیا فہد کے پاس گیا:

“اے جنگل کے بادشاہ!
اسد کہتا ہے کہ تم اس کے راستے کی رکاوٹ ہو۔
وہ تمہیں ہٹانا چاہتا ہے۔”

یوں کئی دن گزر گئے۔
ہر دن کوئی نہ کوئی جانور آتا اور زہر گھول جاتا۔

رفتہ رفتہ اسد اور فہد نے ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دی۔
دوستی میں دراڑ پڑ گئی،
اور شک نے اعتماد کو نگل لیا۔

اعلانِ جنگ

ایک دن اسد غصے سے گرجا:

“فہد!
میں نے تمہیں بھائی سمجھا،
مگر تم نے مجھے دھوکہ دیا!
تم مجھے مار کر اکیلے راج کرنا چاہتے ہو!”

فہد بھی دہاڑ اٹھا:

“یہ جھوٹ ہے!
مگر اگر تم نے میرے خلاف تلوار اٹھائی
تو میں بھی خاموش نہیں رہوں گا!”

جنگل دو حصوں میں بٹ گیا۔
ہر جانور اپنے پسندیدہ شیر کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
جنگ کا میدان سجنے لگا۔

عقل مند بندر کی آمد

جنگ شروع ہونے ہی والی تھی کہ ایک بوڑھا بندر آگے بڑھا۔
وہ جنگل میں عقل و دانائی کے لیے مشہور تھا۔

اس نے بلند آواز میں کہا:

“رُکو!
کیا تم دونوں اپنی برسوں کی دوستی کو
چند باتوں پر قربان کر دو گے؟”

اس نے دونوں سے الگ الگ کہانی سنی۔
پھر ایک ہی جگہ سب جانوروں کو جمع کیا
اور سوالات شروع کیے۔

لومڑی اور اس کے ساتھی ہچکچانے لگے۔
ان کے چہروں سے حسد عیاں ہو گیا۔

بندر نے کہا:

“اگر آج یہ جنگ ہوتی
تو نہ جانے کتنے جانور مرتے،
اور شاید تم دونوں بھی نہ بچتے۔
پھر اس جنگل کا کیا ہوتا؟”

اصل سبق

بندر نے آخر میں کہا:

“فتنہ ابتدا میں ختم کر دیا جائے
تو آگ نہیں بنتا،
اور اگر چھوڑ دیا جائے
تو پورا جنگل جلا دیتا ہے۔”

پھر اسد اور فہد ایک دوسرے کے قریب آئے۔
دونوں کی آنکھوں میں ندامت تھی۔
انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔

حدیثِ مبارکہ

اسی موقع پر بندر نے کہا:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے،
یہ دونوں ملتے ہیں، ایک منہ پھیر لیتا ہے اور دوسرا بھی منہ پھیر لیتا ہے،
اور ان میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔”

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اختتام

اس دن کے بعد اسد اور فہد نے یہ عہد کیا
کہ وہ کبھی کسی کی بات سن کر
ایک دوسرے پر شک نہیں کریں گے
بلکہ پہلے آمنے سامنے بات کریں گے۔

جنگل میں پھر امن لوٹ آیا،
اور حسد کرنے والے خود رسوا ہو گئے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *