ایک فائدہ مند درخت کی کہانی | انسانیت، خدمت اور اچھے اخلاق کا سبق

ایک سرسبز اور پرسکون علاقے میں ایک بہت بڑا، گھنا اور خوبصورت درخت ہوا کرتا تھا۔ اس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں، پتے ہرے بھرے اور گھنے تھے، اور ہر موسم میں اس پر بکثرت میٹھے پھل لگتے تھے۔ دور سے دیکھنے والا کوئی بھی شخص اس درخت کو دیکھ کر رک جاتا، کیونکہ اس میں ایک عجیب سی کشش اور سکون تھا۔ یہ درخت اس علاقے کی خوبصورتی اور پہچان بن چکا تھا۔

گرمی کے دنوں میں مسافر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں آ کر آرام کرتے، اپنی تھکن اتارتے اور تازہ دم ہو کر آگے کا سفر شروع کرتے۔ دوپہر کے وقت قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے لوگ کچھ دیر کے لیے اس کے نیچے بیٹھتے اور سکون کا سانس لیتے۔ شام کے وقت بزرگ حضرات اپنے گھروں سے کرسیاں لے کر آتے، اس درخت کے سائے میں بیٹھتے اور آپس میں زندگی کے تجربات، خوشی اور غم کی باتیں بانٹتے۔ یہ جگہ آہستہ آہستہ سب کے لیے ایک اجتماع کا مرکز بن گئی تھی۔

بچے اس درخت سے خاص محبت کرتے تھے۔ وہ اس کی مضبوط اور اونچی شاخوں کے ساتھ رسیاں باندھ کر خوبصورت جھولے لگا لیتے تھے۔ ہنستے کھیلتے بچے جب جھولا جھولتے تو ان کی ہنسی پورے ماحول کو خوشیوں سے بھر دیتی۔ درخت کے آس پاس کھیل کود، قہقہے اور معصوم خوشیاں بکھری رہتیں۔ پرندے بھی اس درخت کو اپنا گھر سمجھتے تھے، اس پر گھونسلے بناتے اور صبح کے وقت ان کی میٹھی چہچہاہٹ پورے علاقے میں زندگی کی رمق پیدا کر دیتی تھی۔

یہ درخت کسی سے کچھ نہیں مانگتا تھا، مگر سب کو دیتا تھا۔ اپنی چھاؤں، اپنے پھل، اپنی خوبصورتی اور اپنے سکون کے ذریعے وہ خاموشی سے سب کی خدمت کر رہا تھا۔ لوگ اس درخت کی قدر کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ درخت ان کی زندگی میں آسانی اور راحت کا سبب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نیک انسان اور اچھی بات کی مثال بھی ایک فائدہ مند درخت سے دی ہے۔ فرمایا گیا:
“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے؟ پاکیزہ بات کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی سی ہے، جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں، وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے۔”
یہ آیت اس درخت کی حقیقت کو مزید واضح کر دیتی ہے، کیونکہ جیسے وہ درخت سب کو فائدہ دیتا تھا، ویسے ہی نیک انسان اپنے اچھے اعمال سے معاشرے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

ایک رات موسم نے کروٹ بدلی۔ آسمان پر بادل چھا گئے، ہوا تیز ہو گئی اور گرج چمک ہونے لگی۔ رات کی تاریکی میں ایک قدرتی حادثے کے باعث اس درخت کو شدید نقصان پہنچا۔ چونکہ سب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، اس لیے کسی کو فوراً خبر نہ ہو سکی۔

اگلی صبح جب لوگ حسبِ معمول اس جگہ پہنچے تو وہ خوبصورت درخت اپنی پرانی حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر سب کے دل اداس ہو گئے۔ بچوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، بزرگ خاموش کھڑے تھے اور ہر شخص کے دل میں ایک خالی پن سا محسوس ہو رہا تھا۔ حالانکہ وہ ایک درخت تھا، کوئی انسان نہیں، مگر اس نے لوگوں کو اتنا فائدہ دیا تھا کہ اس کے نہ ہونے کا دکھ سب کو شدت سے محسوس ہوا۔

اس موقع پر لوگوں کو نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا:
“سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔”
تب سب نے محسوس کیا کہ یہی خوبی اس درخت میں تھی، جو خاموشی سے سب کے لیے فائدہ مند بنا رہا۔

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے فائدے میں ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، محبت بانٹتا ہے اور اچھے اخلاق اپناتا ہے، وہ دنیا میں بھی قدر پاتا ہے اور دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہ درخت تو وقت کے ساتھ ختم ہو گیا، مگر اس کی یاد، اس کی خدمت اور اس کا دیا ہوا سبق ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *