ایک گھنا اور سرسبز جنگل تھا، جہاں ایک ننھا سا پانڈا رہتا تھا۔ وہ اپنی سادہ سی زندگی میں بے حد خوش تھا۔

دن کا زیادہ تر وقت وہ درختوں کے سائے میں آرام کرتے، کبھی شاخوں سے لٹکتا، کبھی دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور جب بھوک لگتی تو جنگل میں موجود وافر خوراک سے اپنا پیٹ بھر لیتا۔ اسے کسی چیز کی کمی نہ تھی، نہ فکر، نہ غم۔
ایک دن کھیلتے کھیلتے وہ جنگل سے بہت آگے نکل گیا اور اچانک ایک سڑک پر جا پہنچا۔ وہاں اس نے عجیب و غریب چیزیں دیکھیں جو بہت تیزی سے آگے پیچھے جا رہی تھیں۔

وہ گھبرا گیا اور سوچنے لگا کہ یہ کیا مخلوق ہے؟ دراصل وہ گاڑیاں تھیں جو سڑک پر دوڑ رہی تھیں۔ پانڈا خوف اور حیرت کے عالم میں سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہاں لوگ جمع ہونے لگے۔ لوگ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کوئی موبائل سے تصویریں بنا رہا تھا، کوئی خوشی سے مسکرا رہا تھا۔ پانڈا چونکہ بہت پیارا اور کیوٹ تھا، اس لیے سب اس کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی آئے جن کے دل میں جانوروں کے لیےبہت زیادہ محبت تھی۔ وہ پانڈا کے لیے کھانا لے کر آئے۔

پانڈا نے جیسے ہی کھانا دیکھا، اس کے قدم رک گئے۔ وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں بیٹھا رہا اور کھانا کھانے لگا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وقتی لالچ اس کی زندگی کو کس موڑ پر لے جا رہا ہے۔

کچھ دیر بعد لوگوں نے اسے ایک بڑے پنجرے میں ڈال دیا اور ایک گاڑی میں بٹھا کر کہیں لے جانے لگے۔ پانڈا بہت ڈر گیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ وہ گاڑی دراصل چڑیا گھر کے لوگوں کی تھی، جو پانڈا کو وہاں لے جا رہے تھے کیونکہ چڑیا گھر کو ایک پانڈا کی ضرورت تھی۔

چڑیا گھر پہنچ کر پانڈا کی زندگی بدل گئی۔ وہاں نہ وہ آزاد جنگل تھا، نہ اس کے دوست، نہ وہ درخت جن پر وہ جھولا کرتا تھا۔ کھانا تو ملتا تھا، مگر اس میں وہ مزہ اور آزادی نہ تھی۔ رفتہ رفتہ اسے اپنے جنگل کی یاد ستانے لگی۔

مہینے گزرتے گئے اور پانڈا کی صحت خراب ہونے لگی۔ لوگ روز آتے، اسے کھانا دیتے، تصویریں بناتے، مگر پانڈا اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے رہے، مگر فائدہ نہ ہوا۔ آخرکار ماہر ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ پانڈا یہاں خوش نہیں رہ سکتا، کیونکہ اسے اپنے گھر کی شدید یاد آتی ہے۔
چنانچہ یہ طے پایا کہ اسے واپس اسی جنگل میں چھوڑ دیا جائے جہاں سے اسے لایا گیا تھا۔

جب پانڈا کو دوبارہ اس کے جنگل میں چھوڑا گیا اور اس نے وہی درخت، وہی راستے اور وہی خوشبو دیکھی تو وہ خوشی سے دوڑ پڑا۔ وہ سیدھا جنگل کے اندر چلا گیا۔ اس کی آنکھوں میں جیسے سکون اتر آیا ہو۔

وہ دل ہی دل میں شکر ادا کرنے لگا اور سوچنے لگا:
“کاش اُس دن میں کھانے کے لالچ میں نہ آتا اور فوراً جنگل واپس لوٹ جاتا، تو مجھے یہ سب مشکل دن نہ دیکھنے پڑتے۔”
یوں پانڈا نے اپنی آزادی اور اصل گھر کی قدر کو پہچان لیا۔
سبق
آزادی اللہ کی بڑی نعمت ہے
جو شخص اس نعمت کی قدر نہیں کرتا، وہ اس کی محرومی کا دکھ ضرور محسوس کرتا ہے۔
لالچ میں آ کر غلط فیصلے نہیں کرنے چاہئیں
ایک لمحے کا فیصلہ زندگی بھر کی پریشانی بن سکتا ہے۔
Leave a Reply