کمزور چوزہ جو سب کی جان بچا گیا — عقل کی طاقت کی سبق آموز کہانی

ایک گاؤں کے کنارے، سبز گھاس اور نرم مٹی سے گھرے ایک چھوٹے سے صحن میں ایک محبت کرنے والی مرغی رہتی تھی۔ ایک دن اس مرغی نے چند انڈے دیے۔ کچھ دنوں بعد جب انڈے ٹوٹے تو ان میں سے ننھے ننھے چوزے نکل آئے۔

سب چوزے تندرست، پھرتیلے اور خوش مزاج تھے، مگر ان میں ایک چوزہ ایسا بھی تھا جو کمزور اور نازک سا تھا۔ اس کی صحت اچھی نہیں تھی، وہ جلد تھک جاتا اور ذرا سی آہٹ پر گھبرا جاتا۔

مرغی ماں جہاں بھی جاتی، اس کمزور چوزے پر خاص نظر رکھتی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بچہ دوسروں کی طرح طاقتور نہیں، اس لیے وہ اسے اپنے پروں کے قریب رکھتی، اس کے لیے نرم دانہ چنتی اور اسے ہمیشہ تسلی دیتی۔ باقی چوزے دوڑتے، کودتے، اونچی جگہوں پر چڑھتے اور مختلف کام آسانی سے کر لیتے تھے۔ وہ اکثر اس کمزور چوزے کا مذاق اڑاتے کہ وہ نہ تیز دوڑ سکتا ہے اور نہ ہی بھاری کام کر سکتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ کمزور چوزہ جسمانی طور پر تو طاقتور نہ بن سکا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی۔ وہ غور سے چیزوں کو دیکھتا، سنتا اور سوچتا رہتا۔ جہاں باقی چوزے صرف کھیل کود میں لگے رہتے، وہ اردگرد کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ سب چوزے اپنی ماں کے ساتھ کھلے میدان میں دانہ چگ رہے تھے کہ اچانک ایک خطرہ سامنے آ گیا۔ ایک شکاری جانور ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ طاقتور چوزے گھبرا گئے، کوئی اِدھر بھاگا، کوئی اُدھر۔ ان کی طاقت اس لمحے کسی کام نہ آ سکی۔

اسی لمحے وہ کمزور مگر حساس چوزہ آگے بڑھا۔ اس نے جلدی سے سوچا اور ایک ترکیب نکالی۔ اس نے زور زور سے آوازیں نکالیں اور باقی چوزوں کو ایک خاص سمت میں لے جانے کا اشارہ کیا، جہاں جھاڑیاں گھنی تھیں اور ایک تنگ راستہ تھا۔ اس کی سمجھداری سے سب چوزے اس راستے سے نکل گئے، اور شکاری الجھن میں پڑ کر واپس چلا گیا۔

سب کی جان بچ گئی۔ اب وہی چوزے جو پہلے مذاق اڑاتے تھے، خاموش کھڑے تھے۔ انہیں سمجھ آ گیا تھا کہ طاقت صرف جسم میں نہیں ہوتی، اصل طاقت عقل اور سمجھ میں ہوتی ہے۔ مرغی ماں نے اپنے اس حساس بچے کو محبت سے اپنے پروں میں لے لیا، اور باقی چوزوں نے پہلی بار دل سے اس کا احترام کیا۔

اس دن کے بعد سب نے یہ سبق سیکھ لیا کہ ذہنی طاقت، جسمانی طاقت سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے، اور جو کمزور نظر آتا ہے، وہ بھی وقت آنے پر سب سے مضبوط ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *