محنت اور کوشش سے سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے | بھیک مانگنے سے کامیابی تک ایک سبق آموز کہانی


زندگی میں کامیابی کبھی آسان راستے سے نہیں ملتی۔ بعض اوقات انسان کو ذلت، سوالات اور اندرونی کشمکش سے گزر کر ہی صحیح سمت ملتی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جس نے بھیک مانگنے جیسے آسان مگر بےعزت راستے کو چھوڑ کر محنت اور خودداری کو اپنایا اور کامیابی حاصل کی۔

یہ کہانی عادل نامی ایک بچے کی ہے جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد کسی وجہ سے اس کی ماں کو چھوڑ کر جا چکے تھے۔ گھر میں صرف ماں اور بیٹا تھے، اور ماں کی کفالت کی ذمہ داری کم عمری میں ہی عادل کے کندھوں پر آ گئی تھی۔

عادل کے سامنے دو راستے تھے:
ایک یہ کہ وہ کسی ہوٹل یا دکان پر مزدوری کرے، اور دوسرا یہ کہ آسان راستہ اختیار کرے — یعنی بھیک مانگنا۔ حالات کی سختی اور کم عمری نے اسے اسی آسان راستے کی طرف دھکیل دیا۔ وہ روز سڑکوں پر بھیک مانگتا، مگر اپنی ماں کو یہ بتاتا کہ وہ کسی ہوٹل میں مزدوری کرتا ہے۔

شروع میں یہ کام اسے آسان لگا، کیونکہ بغیر زیادہ محنت کے کچھ پیسے مل جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ بھیک مانگنا اس کی عادت بن گیا اور پھر یہی اس کا مستقل ذریعۂ آمدن بن گیا۔ مگر جیسے جیسے اس کا شعور بڑھا، ویسے ویسے اسے اس کام کی ذلت محسوس ہونے لگی۔ ہر قسم کے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا، سننا، برداشت کرنا — یہ سب اس کے بڑھتے ہوئے دماغ کو اندر سے جھنجھوڑنے لگا۔

آخرکار اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اس کے آس پاس بہت سے لوگ محنت کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر وہ کیوں نہیں؟ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھیک کے پیسوں کو کسی ایسے کام میں لگائے گا جو اس کے لیے باعزت روزگار بن سکے۔

اس نے اپنی تھوڑی سی جمع پونجی اور کچھ ادھار لے کر آلو کے چپس کی ایک چھوٹی سی ریڑھی لگا لی۔ اب وہ روز آلو لاتا، انہیں چھیلتا، صاف کرتا، چپس بناتا اور خود بیچتا۔ لوگ اس کم سن بچے کی محنت دیکھ کر خوش دلی سے اس سے خریدنے لگے۔ کئی لوگوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے کام کو آگے بڑھانے میں مدد بھی کی۔

ایک دو سال کی مسلسل محنت کے بعد عادل کو منافع ملنے لگا۔ وہ پہلے سے زیادہ پیسے گھر لانے لگا، حتیٰ کہ وہ اس قابل ہو گیا کہ اگر کوئی واقعی مستحق اس کے سامنے آئے تو وہ اس کی مدد بھی کر سکے۔ یہی عادل، جو کبھی خود مانگنے پر مجبور تھا، اب دوسروں کا سہارا بننے لگا تھا۔

وقت کے ساتھ اس نے مزید ریڑھیاں لگائیں، لوگوں کو کام دیا، اور آخرکار ایک عمارت کرائے پر لے کر اپنی باقاعدہ دکان کھول لی۔ اس نے اپنی دکان کا نام رکھا:

“All Types of Fries”

آج عادل کے کاروبار کی پورے پاکستان میں کئی فرنچائزز ہیں۔ وہ ایک بہترین گھر، اچھی گاڑی اور باعزت زندگی کا مالک ہے، اور اس کی ماں خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔


پاکستان میں بھیک مانگنا — ایک سماجی مسئلہ

آج پاکستان میں ہم جگہ جگہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے بےروزگار افراد نے بھیک مانگنے کو باقاعدہ پیشہ بنا لیا ہے۔ اس کے برعکس، وہ سفید پوش لوگ جنہیں واقعی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کبھی سڑکوں پر آ کر مانگتے نہیں۔

یہ مسئلہ صرف ان بھیک مانگنے والوں کا نہیں، بلکہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ان کے پیچھے پورا نیٹ ورک چلا رہے ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت بھکاریوں کو مخصوص مقامات پر چھوڑا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بچوں کو اسکول چھوڑا جاتا ہے۔ پھر پورا دن وہ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر بھیک مانگتے ہیں، اور رات کے وقت ایک گاڑی آ کر انہیں واپس لے جاتی ہے۔

یہ ایک ایسا پیشہ بن چکا ہے جس میں نہ کوئی سرمایہ کاری ہے اور نہ محنت۔ کئی بار لوگوں کو جان بوجھ کر معذور بنایا جاتا ہے یا ان کی حالت مزید خراب دکھائی جاتی ہے تاکہ ترس زیادہ آئے۔ آج کل تو یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ پورے پورے خاندان — ماں، باپ اور بچے — ایک جیسے کپڑے پہن کر سڑکوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مخصوص آوازوں میں بھیک مانگتے ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک پر، ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک عورت اپنی دو بچیوں کو زبردستی رُلانے کے لیے انہیں مار رہی تھی تاکہ لوگ زیادہ پیسے دیں۔ یہ منظر ثابت کرتا ہے کہ بھیک مانگنا اب ایک سماجی بیماری بنتا جا رہا ہے۔

یہ بیماری ناقابلِ علاج تو نہیں، مگر مشکل ضرور ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کو سخت اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ لوگ خود احساس کرنے والے نہیں ہیں۔


سبق

عادل کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محنت، کوشش اور اللہ پر بھروسہ انسان کو ہر مشکل سے نکال سکتا ہے۔ بھیک مانگنے سے زندگی نہیں بنتی۔ انسان ضرورت کے وقت ایک بار کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتا ہے، مگر بار بار ایسا کرنا گویا اللہ پر سے یقین اٹھا لینے کے مترادف ہے۔

سچی نیت، باعزت روزگار اور مسلسل جدوجہد — یہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *