تین ننھی بلیوں نے اپنے اپنے گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ ہر بلی نے اپنی سوچ اور محنت کے مطابق گھر بنانے کا طریقہ چُنا۔

پہلی بلی جلدی میں تھی۔ وہ کھیلتی ہوئی کھال سے بنا ایک گھر تیار کر گئی، کیونکہ اس کے نزدیک وقت بچانا سب سے اہم تھا۔ دوسری بلی زیادہ محنت نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے اس نے لکڑی کا گھر بنا لیا اور مطمئن ہو گئی کہ یہ کافی ہوگا۔
تیسری بلی سب سے زیادہ سمجھدار تھی۔ اس نے مستقبل کے بارے میں سوچا اور اینٹوں سے مضبوط گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کئی دن محنت کی اور اینٹ پر اینٹ رکھ کر ایک مضبوط گھر تیار کیا۔
پہلی دو بلیاں اس کا مذاق اُڑانے لگیں۔
“اتنی محنت کیوں کر رہی ہو؟ تم وقت ضائع کر رہی ہو!”
تیسری بلی پُرسکون انداز میں بولی،
“مضبوط بنیاد بہت ضروری ہوتی ہے۔ اگر خطرہ آیا تو صرف تیاری ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔”
کچھ ہی دنوں بعد ایک بھوکا بھیڑیا اس علاقے میں آ گیا۔ اس نے زور سے پھونک ماری اور کھال کا گھر فوراً گر گیا۔ پہلی بلی جان بچا کر لکڑی کے گھر میں بھاگ گئی۔ بھیڑیا پیچھے آیا اور لکڑی کا گھر بھی آسانی سے توڑ دیا۔ دونوں بلیاں خوفزدہ ہو کر اینٹوں کے گھر کی طرف دوڑ گئیں۔

بھیڑیا اینٹوں کے گھر کو گرانے کی پوری کوشش کرتا رہا، مگر وہ گھر اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ آخرکار اس نے چمنی کے راستے اندر آنے کی کوشش کی۔ لیکن بلیاں پہلے ہی تیار تھیں۔ چمنی کے نیچے کھولتے پانی کا برتن رکھا ہوا تھا۔

بھیڑیا اس میں گر پڑا، چیختا چلاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا اور دوبارہ کبھی واپس نہ آیا۔

اس دن تینوں بلیوں نے سیکھ لیا کہ محنت اور دور اندیشی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اینٹوں کا مضبوط گھر ان سب کے لیے حفاظت اور سکون کا سبب بن گیا۔
کہانی کا سبق
محنت، صبر اور پیشگی تیاری زندگی کے مسائل سے بچاتی ہے۔ مضبوط بنیادیں ہی مشکل وقت میں ہماری حفاظت کرتی ہیں۔
کہانی اور ہماری روزمرہ زندگی — پاکستان کے تناظر میں
تین ننھی بلیوں کی یہ کہانی دراصل صرف بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک گہرا عکس ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں حالات اکثر غیر یقینی ہوتے ہیں۔
پہلی اور دوسری بلی اُن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ وقتی فائدے کے لیے محنت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں — چاہے وہ تعلیم ہو، کاروبار ہو، یا تعمیرات۔ کم معیار کا کام، بغیر منصوبہ بندی کے فیصلے، اور “ابھی گزارا ہو جائے گا” والا رویہ بالآخر مسائل کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سا بحران آتے ہی یہ کمزور نظام ٹوٹ جاتا ہے، جیسے کھال اور لکڑی کے گھر۔
تیسری بلی اُن افراد کی علامت ہے جو محنت، صبر اور دور اندیشی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے لوگ کم سہی، مگر موجود ہیں — وہ والدین جو بچوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہ نوجوان جو مہارتیں سیکھتے ہیں، اور وہ تاجر جو معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اینٹوں کا گھر اسی مضبوط منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کی علامت ہے جو مشکلات کے طوفان میں بھی قائم رہتی ہے۔
بھیڑیا ہماری زندگی کے اُن خطرات کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی بھی وقت آ سکتے ہیں، جیسے:
- مہنگائی
- بے روزگاری
- صحت کے مسائل
- قدرتی آفات
- معاشی یا سماجی بحران
جو لوگ پہلے سے تیاری نہیں کرتے، وہ ان حالات میں شدید نقصان اٹھاتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ مضبوط بنیادیں رکھتے ہیں — تعلیم، بچت، ہنر، اور اخلاقی اقدار — وہ ان چیلنجز کا مقابلہ بہتر انداز میں کر لیتے ہیں۔
چمنی میں کھولتے پانی والا منظر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف محنت ہی کافی نہیں، عقل اور حکمت بھی ضروری ہے۔ پاکستان میں حالات سے نمٹنے کے لیے ہمیں جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندانہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
Leave a Reply