ٹائم ٹریول مشین اور ڈائنوسار کی دنیا: تین دوستوں کی حیرت انگیز مہم

یہ کہانی اُس زمانے کی ہے جب زمین پر انسان نہیں بلکہ ڈائنو سورس کا راج تھا۔ چاروں طرف گھنا جنگل تھا، اونچے اونچے درخت، گہری جھاڑیاں، اور ہر طرف عجیب و غریب آوازیں گونجتی رہتی تھیں۔ اس جنگل میں ہر طرح کے ڈائنو سورس رہتے تھے۔

کہیں طاقتور ٹائرینوسورس ریکس (Tyrannosaurus Rex) تھا، کہیں پُرامن ٹرائی سیراٹاپس (Triceratops) چر رہا تھا، درختوں کی چوٹیوں سے پتے توڑتا ہوا براکیوسورس (Brachiosaurus) دکھائی دیتا تھا، اور جھاڑیوں میں تیزی سے حرکت کرتا ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) سب سے زیادہ چوکنا رہتا تھا۔

ایک دن اچانک جنگل کے بیچ ایک زوردار روشنی چمکی، جیسے آسمان زمین پر اُتر آیا ہو۔ چند لمحوں بعد وہاں ایک عجیب سی مشین کھڑی تھی۔ وہ ایک ٹائم ٹریول مشین تھی۔

اس کے اندر چار لوگ موجود تھے: علی، حمزہ، عبداللہ اور ان کا ایک دوست جو تھا ربوٹ مگر ظاہری طور پر انسانی شکل رکھتاتھا-جو اس مشین کو چلا رہا تھا۔ ابھی وہ سب یہ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ مشین رک کیوں گئی ہے کہ باہر سے عجیب آوازیں آنے لگیں۔

جب انہوں نے مشین کے شیشے سے باہر جھانک کر دیکھا تو ان کے ہوش اُڑ گئے۔ چاروں طرف دیو ہیکل ڈائنو سورس گھوم رہے تھے۔ حمزہ نے گھبرا کر کہا، “یہ تو ڈائنو سورس کی دنیا لگتی ہے!” عبداللہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، اور علی خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

اچانک جھاڑیوں میں ہلچل ہوئی اور ایک ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) نمودار ہوا۔ وہ مشین کے قریب آیا، اسے سونگھنے لگا، جیسے یہ جانچ رہا ہو کہ یہ کیا چیز ہے۔ سب سانس روکے بیٹھے تھے۔ اسی گھبراہٹ میں وہ سب جلدی میں مشین سے باہر نکل آئے تاکہ کسی طرح خود کو بچا سکیں۔

جیسے ہی وہ باہر آئے، ویلو سی ریپٹر ایک دم پیچھے ہٹ گیا، اور اسی لمحے دور سے ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ یہ ٹائرینوسورس ریکس (Tyrannosaurus Rex) کی آواز تھی۔

ڈر کے مارے وہ سب اِدھر اُدھر بھاگے۔ علی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی، حمزہ نے پتھر، اور عبداللہ نے درخت کے پیچھے پناہ لی۔ وہ صرف اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے، کسی کو نقصان پہنچانا نہیں۔ کچھ دیر بعد جب آوازیں دور ہو گئیں تو انہوں نے واپس جا کر ٹائم مشین کو چلانے کی کوشش کی، مگر وہ خراب ہو چکی تھی۔ اب واپسی ممکن نہیں تھی۔

پہلی رات ان کے لیے بہت مشکل تھی۔ جنگل کی آوازیں، زمین کی ہلکی لرزش، اور ڈائنو سورس کی گونجتی چیخیں انہیں سونے نہیں دے رہی تھیں۔ صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ٹرائی سیراٹاپس (Triceratops) قریب ہی گھاس کھا رہا ہے۔ وہ بالکل پُرسکون تھا۔ اس نے نہ ان کی طرف دیکھا، نہ کوئی حملہ کیا۔ اسی لمحے انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ شاید ہر ڈائنو سورس دشمن نہیں۔

چند دن بعد ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک چھوٹا ویلو سی ریپٹر (Velociraptor) ایک کیچڑ والے گڑھے میں پھنس گیا۔ وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ناکام تھا۔ عبداللہ نے ہمت کر کے ایک لمبی شاخ آگے بڑھائی۔ سب کو لگا وہ ڈائنو سورس حملہ کر دے گا، مگر وہ شاخ پکڑ کر باہر آ گیا اور عجیب سی خوشی کی آواز نکال کر چلا گیا۔

اس کے بعد وہ تینوں آہستہ آہستہ ڈائنو سورس کو سمجھنے لگے۔ انہوں نے چیزیں پھینکنا چھوڑ دیں، چیخنا چلانا بند کر دیا، اور سکون سے رہنا سیکھ لیا۔ جب علی نے ایک براکیوسورس (Brachiosaurus) کے پاؤں کو آہستہ سے چھوا تو وہ بالکل نہیں گھبرایا، بلکہ آرام سے پتے کھاتا رہا۔

وقت گزرتا گیا۔ علی، حمزہ اور عبداللہ اب اس جنگل کا حصہ بن چکے تھے۔ ڈائنو سورس انہیں پہچاننے لگے تھے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ انسان ان کی خوراک نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا دشمن۔ اب وہ تینوں ڈائنو سورس سے ڈرتے نہیں تھے بلکہ ان کے دوست بن چکے تھے۔

اکثر شام کے وقت وہ بیٹھ کر سوچتے کہ ٹائم ٹریول انہیں یہاں کیوں لے آیا۔ پھر انہیں لگتا کہ شاید یہ سفر انہیں یہ سکھانے کے لیے تھا کہ ہر طاقتور چیز خطرناک نہیں ہوتی، اور محبت، صبر اور سمجھ سے ناممکن حالات میں بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس جنگل میں، جہاں کبھی صرف خوف تھا، اب سکون اور دوستی نے جگہ بنا لی تھی۔ 🦖🌿

کچھ ہی دن بعد ان کی ٹرائیم ٹریول مشین خود بخود صحیح ہو جاتی ہے اور یہ ڈائنیسورز کو خدا حافظ کہہ کر خوشی خوشی واپس چلے جاتے ہیں-

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *