ایک خاموش سی دوپہر تھی۔ لاہور کی ایک پرانی گلی میں رہنے والا بارہ سالہ لڑکا علی کباڑ کے ڈھیر کے پاس کھیل رہا تھا۔ گرد آلود ٹن کے ڈبوں، ٹوٹے کھلونوں اور زنگ آلود لوہے کے درمیان اسے ایک عجیب سا پرانا چراغ ملا۔ چراغ عام چراغوں جیسا نہیں تھا؛ اس پر باریک نقش و نگار تھے، جیسے کسی نے برسوں پہلے بڑی محبت سے بنائے ہوں۔ علی نے تجسس میں آکر چراغ کو صاف کیا۔

اچانک ہوا میں ایک لرزش سی ہوئی، دھواں اٹھا، اور اس دھوئیں میں سے ایک نورانی سی مگر رعب دار آواز ابھری۔
“میں جن ہوں۔ صدیوں بعد کسی نے مجھے آزاد کیا ہے۔ تم تین خواہشیں مانگ سکتے ہو۔”

علی گھبرا گیا، مگر اس کے دل میں خوف سے زیادہ رحم تھا۔ اس نے جن کی آنکھوں میں دیکھا—وہ آنکھیں طاقتور تھیں، مگر خالی نہیں۔ علی نے لمحہ بھر سوچا اور کہا:
“میری پہلی خواہش یہ ہے کہ پاکستان کی سڑکوں پر جو غریب بھوکے ہیں، انہیں آج پیٹ بھر کر کھانا ملے۔”
جن نے ہاتھ بلند کیا۔ آسمان سے خوشبو اترنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چوک، ہر فٹ پاتھ پر دیگچیاں ظاہر ہو گئیں۔ گرم گرم بریانی، رائتہ، سلاد—ایسی خوشبو کہ لوگ حیران رہ گئے۔ بچے، بوڑھے، عورتیں—سب نے سیر ہو کر کھایا۔ کئی آنکھوں میں آنسو تھے، کئی دعائیں زبان پر۔

علی مسکرایا۔ اس کے دل کو سکون ملا۔
اس نے دوسری خواہش کہی:
“انہیں پیسے بھی دے دو، تاکہ وہ اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔”
جن نے پھر ہاتھ ہلایا۔ نوٹوں کی گڈیاں نمودار ہوئیں۔ لوگ لپکے، خوشی سے چیخے، کچھ نے سجدہ کیا۔ وہ دن شہر میں تہوار کی طرح گزرا۔

علی نے تیسری اور آخری خواہش کرتے ہوئے کہا:
“انہیں مزید پیسے دے دو، تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں۔”
جن خاموش رہا۔ اس نے خواہش پوری تو کر دی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی۔
چند دن گزرے۔ علی خوشی خوشی انہی سڑکوں پر گیا، مگر جو اس نے دیکھا، اس کا دل ڈوب گیا۔ وہی چہرے، وہی ہاتھ پھیلائے ہوئے، وہی فٹ پاتھ۔ کچھ لوگ جو کل پیسے سے بھرے تھے، آج پھر خالی تھے۔ کسی نے پیسہ عیش میں اڑا دیا، کسی نے نشے میں، کسی سے چھن گیا۔ کئی تو ایسے تھے جو برسوں سے بھیک مانگنا ہی اپنا پیشہ بنا چکے تھے۔ ان کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا، کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ وہ خود کما سکیں۔

علی نے جن کو پکارا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے تو اتنی مدد کی!”
جن نے آہ بھری اور کہا:
“بیٹے، تمہارا دل بہت نیک ہے، مگر صرف پیسہ مسئلے کا حل نہیں۔ جب انسان کے پاس ہنر، تعلیم اور کام کا راستہ نہ ہو، تو دولت بھی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔ کچھ لوگ مجبوری سے مانگتے ہیں، اور کچھ عادت سے۔ تم نے پیٹ بھرا، تم نے پیسہ دیا، مگر تم نے راستہ نہیں دیا۔”
علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“تو پھر اصل مدد کیا ہے؟”
جن نے نرمی سے کہا:
“اصل مدد یہ ہے کہ انسان کو وہ ذریعہ دیا جائے جس سے وہ خود کما سکے۔ ہنر سکھاؤ، روزگار دو، تعلیم کا دروازہ کھولو۔ مچھلی دینے سے بہتر ہے مچھلی پکڑنا سکھانا۔”
چراغ مدھم پڑ گیا۔ جن رخصت ہو گیا، مگر اس کی بات علی کے دل میں نقش ہو گئی۔
وقت گزرا۔ علی بڑا ہوا۔ اس نے اسکول کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہنر سیکھے، پھر ایک ایسا مرکز قائم کیا جہاں سڑکوں پر رہنے والوں کو کام سکھایا جاتا—کسی کو دستکاری، کسی کو رکشہ چلانا، کسی کو سلائی، کسی کو چھوٹی دکان چلانا۔ آہستہ آہستہ وہی ہاتھ جو بھیک مانگتے تھے، کام کرنے لگے۔

علی اکثر سوچتا:
“مدد وہ نہیں جو لمحاتی خوشی دے، مدد وہ ہے جو زندگی بدل دے۔ اگر تم واقعی کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اسے پیسہ نہیں، راستہ دو۔”
اور یہی سبق اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن گیا۔
Leave a Reply